Sunday, 09 April, 2006, 12:08 GMT 17:08 PST
امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے فلسطین کی امداد بند کیئے جانے کے بعد فلسطین کے ایک اعلی اہلکار نے کہا ہے کہ امداد بند ہونےسے پیدا ہونے والا مالی بحران ان کی توقعات سے زیادہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔
فلسطینی انتظامیہ کے وزیر خزانہ عمر عبدالرزاق نے ایک فلسطینی اخبار میں شائع ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ یقین سے نہیں کہ سکتے کہ فلسطینی انتظامیہ کے ایک لاکھ چالیس ہزار ملازمین کو مارچ کی تنخواہیں کب تک ادا کی جاسکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس قبل انہوں نے اپریل تک تنخواہیں ادا کرنے کا جو بیان دیا تھا وہ مالی امداد سے پیدا ہونے والے بحران کا صحیح اندازہ لگائے بغیر دیا تھا۔
امریکہ اور یورپی یونین حماس کی نئی حکومت پر اسرائیل کو تسلیم کرنے، تشدد کی راہ ترک کرنے اور اسرائیل کے ساتھ کیئے جانے والے ماضی کے تمام معاہدوں کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔
اس سے قبل اسماعیل ہنیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے میں ملازمین کو حکومتی وزراء پر فوقیت دی جائےگی۔
فلسطینی انتظامیہ کو درپیش مالی بحران اس وقت سے شدید تر ہوگیا ہے جب سے اسرائیل نے فلسطینی حکومت کو فلسطینیوں کی جانب سے ادا کردہ ماہانہ محصولات کی رقم کی فراہمی روک دی ہے۔