Sunday, 09 April, 2006, 01:20 GMT 06:20 PST
مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ عراق میں تشدد کے واقعات ایک ایسی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر رہے ہیں جو عراق کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب اگر امریکی افواج عراق سے نکلتی بھی ہیں تو تنازع اور سنگین ہو جائے گا۔
العربیہ سیٹلائٹ ٹیلیویزن سے گفتگو کرتے ہوئے مصری صدر نے کہا ہے کہ عراق کی شیعہ اکثریت پر ایران کا اثر معاملے کو پیچیدہ بنانے والا عنصر ہے کیونکہ ایران کا اثر صرف باتوں تک محدود نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اکثر شیعہ اپنے ملک سے زیادہ ایران کے وفادار ہوتے ہیں اور عراق شیعہ آبادی پینسٹھ فی صد ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالات انتہائی سنگنین ہیں اور عراق میں شیعہ، سنی اور کرد اور دوسرے جو باہر سے آئے ہیں۔ میس نہیں سمجھتا کے عراق ان حالات پر کیسے قابو پائے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ عراق برباد ہو چکا ہے۔
مصری صدر کے یہ تاثرات اس وقت نشر کیے گئے ہیں جب عراق میں ایک اور شیعہ علاقے میں حملہ کیا گیا ہے جس میں چھ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
اس سے قبل عراق کے نائب وزیر داخلہ حسین علی کمال نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں تو عراق میں غیر اعلانیہ خانہ جنگی گزشتہ ایک سال سے جاری ہے لیکن 22 فروری کو ایک شیعہ مزار پر حملے کے بعد سے کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں کہا کہ ملوث جماعتوں اور گروہوں نے ابھی اس خانہ جنگی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا اور ابھی خانہ جنگی زیادہ بڑے پیمانے پر نہیں ہے۔