Friday, 07 April, 2006, 09:54 GMT 14:54 PST
نیپال کے بادشاہ شاہ گیانندرا کے خلاف ملک میں جاری تحریک زور پکڑ رہی ہے اور دارالحکومت کھٹمنڈو میں حکام نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک کم از کم ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
حکومت کی جانب سے سیاسی ریلیوں پر پابندی کے بعد پولیس اور ماہرین کے درمیان پرتشدد تصادم بھی ہوئے ہیں۔
پولیس نے جمہوریت کے حق میں نعرے لگانے والے طلباء اور مظاہرین پر آنسوگیس پھینکی اور انہیں منتشر کرنے کے لیئے لاٹھی چارج بھی کیا۔ مظاہرین نے حکومتی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ایک ڈاکخانے کو بھی نذرِ آتش کر دیا۔
مظاہروں میں شریک کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کے ایک کارکن سووا سپکوتا کا کہنا تھا’ یہ مظاہرے حکومت کے لیئے آخری دھکا ثابت ہوں گے اور بادشاہ کے دن گنے جا چکے ہیں‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ ہم مظاہروں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کرتے رہیں گے‘۔
نیپالی حکام نے بدھ کو بھی حزبِ اختلاف کے مظاہروں کو روکنے کے لیے کارروائی کی تھی اور سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔
کھٹمنڈو میں بی بی سی کے نمائندے سشیل شرما کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی کال پر کی جانے والے ہڑتال سے شہر میں نظامِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ شاہ گیانندرا کے اقتدار پر قابض ہونے کے ایک سال کی تکمیل پر خلاف احتجاج کے طور پر حزبِ اختلاف نے جمعرات کو چار روزہ ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
اس کے علاوہ جلسوں اور مظاہروں پر پابندی کے باوجود ہفتے کے روز نیپال میں بادشاہت کے خلاف دارالحکومت کھٹمنڈو میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا ہے۔