Friday, 07 April, 2006, 22:55 GMT 03:55 PST
ایٹمی امور پر نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ محمد البرادعی ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے لیے آئندہ ہفتے تہران جائیں گے۔
ایران اس مطالبے کو گزشتہ ہفتے ہی عام اعلان میں مسترد کر چکا ہے۔
ایٹمی تنصیبات کے لیے اقوام متحدہ کے معائنہ کار جمعہ کو ایران پہنچے ہیں اور وہ ناتانز میں ایٹمی توانائی کے پلانٹ سمیت کئی مقامات کا دورہ کریں گے۔
ایران مغربی ملکوں کے اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ وہ ایٹمی اسلحہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام ترک کرنے کے لیے ایران کو تیس دن کی مہلت دی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر ایران نے یورینیم کی افزودگی کا پروگرام ترک نہ کیا تو تنہا ہو جائے گا۔
آئی اے ای اے کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ البرادعی اس دورے کے دوران ایران کے حکام سے اعتماد کی بحالی اقدامات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
آئی اے ای اے کے حکام کا کہنا ہے کہ البرادعی کے اس دورے سے ایران کو ایک بار پھر یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ ادارے کو وہ اطلاعات فراہم کرے جس سے اس کی ایٹمی سرگرمیوں کی تاریخ کے خلاء پر کیے جا سکیں۔
ایران اس سال جنوری میں چھوٹی سطح پر یورینیم کی افزودگی شروع کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ کام تحقیقی مقاصد کے لیے شروع کیا گیا ہے۔