Thursday, 06 April, 2006, 11:37 GMT 16:37 PST
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک سرکردہ عراقی مزاحمت کار کو بغداد سے گرفتار کر لیا ہے۔
فوج کے ترجمان کے مطابق محمد العبیدی نامی یہ مزاحمت کار عراق میں القاعدہ کے سربراہ ابومصعب الزرقاوی کا قریبی ساتھی ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ محمد عبیدی کو سات مارچ کوگرفتار کیا گیا تھا تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان کی حتمی شناخت کے بعد ہی ان کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔
فوجی حکام کے مطابق العبیدی صدام حسین کے دور میں ایک خفیہ ادارے کا ایک سینیئر افسر تھے اور گزشتہ برس اطالوی صحافی جیولیانا سگرینا کے اغواء کے معاملے میں انہیں مرکزی ملزم تصور کیا جاتا ہے۔
فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محمد العبیدی عراقی حکومت اور سکیورٹی افواج کے اہلکاروں پر متعدد حملوں میں بھی ملوث ہیں۔ بیان کے مطابق وہ شمالی بابل صوبے میں سرگرم مزاحمت کار گروہ خفیہ اسلامی آرمی کے رہنما ہیں اور ابومصعب الزرقاوی کے ساتھ ان کے گہرے مراسم ہیں۔
اردنی نژاد ابومعصب الزقاوی امریکہ کو مطلوب ترین عراقی مزاحمت کار ہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق انہیں مارچ کے مہینے میں عراقی مزاحمت کاروں کے مرکزی رہنما کا عہدہ اس وقت چھوڑنا پڑا تھا جب کچھ مزاحمت کار گروہوں کی جانب سے ان کے طریقۂ کار کی مخالفت ہوئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق الزرقاوی کی جگہ ایک عراقی مزاحمت کار نے لی ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ الزرقاوی کا عہدہ چھوڑنے اور ایک عراقی کی تقرری کا مقصد مزاحمتی تحریک کو عراقی نام دینا ہو۔