Wednesday, 05 April, 2006, 07:17 GMT 12:17 PST
فرانس میں مزدور اور طلباء تنظیمیں ملک میں موجودہ بحران کے خاتمے کے لیئے متنازعہ لیبر قانون پر حکومتی نمائندوں سے بات چیت کریں گی۔
اس قانون کے خلاف منگل کو بھی بڑے پیمانے پراحتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا۔
گزشتہ اتوار کو نافذ کیئے جانے والے مذکورہ نئے قانون کے تحت نوجوانوں کو ملازمت دینا اور اس سے نکالنا آسان بنا دیا گیا ہے۔ اس قانون کے مخالف حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملازمین عدم تحفظ کا شکار ہوجائیں گے۔ جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ اس سے بے روز گار نوجوانوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی۔
سی پی ای (ملازمت کا پہلا معاہدہ) نامی نئے قانون پر صدر شیراک نے گزشتہ جمعہ کو دستخط کیے تھے تاہم بعد میں انہوں نے ایک ٹی وی تقریر کے دوران معاہدے کی مدت دو سال سے کم کر کے ایک سال کر دی تھی۔ قانون کے مطابق تعیناتی کے پہلے سال کے دوران نوجوانوں کو کوئی عذر بتائے بغیر ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔
![]() | |
| وزیر اعظم ڈی ولیپن اور وزیر داخلہ نکولس سرکوزی |
ژاک شیراک کی جماعت یو ایم پی کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون میں مزید نرمی کرنے کے لیئے تیار ہیں۔
فرانسیسی اخباروں کے مطابق متوقع احتجاج کو روکنے کی غرض سے وزیر داخلہ نکولس سرکوزی نے یہ معاملہ وزیراعظم ڈامینک ڈی ولیپن سے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔
حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آجر قانون کے اس حصہ کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں جس کے تحت وہ جوانوں کو ملازمت سے برخاست کر سکتے ہیں۔
حکومت کے مطابق ملک کے ان علاقوں میں جہاں بے روزگاری کی شرح چالیس فیصد تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے، نیا قانون بیروزگار نوجوانوں کے لیے مددگار ہوگا لیکن طلباء کا خیال ہے کہ اس سے ملازمت کےمواقعوں میں عدم استحکام پیدا ہو جائے گا۔