Monday, 03 April, 2006, 10:39 GMT 15:39 PST
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ گزشتہ دسمبر کے انتخابات میں عراقی عوام نے دہشتگردی کے خطرات کے باوجود جرات مندی سے کام لیتے ہوئے ووٹ ڈالنے سے گریز نہیں کیا اور اب عوام حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔
عراق کے سیاسی رہنماؤں سے دو روزہ بات چیت کے بعد بغداد میں بیان دیتے ہوئے کونڈولیزا رائس نے کہا کہ صرف جمہوری نظام حکومت ہی پرتشدد کارروائیوں کے روکنے میں فعال ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کا، جنہوں نے عراق میں اپنی افواج تعینات کررکھی ہیں، یہ حق ہے کہ وہ ملک میں سیاسی عمل کو آگے بڑھتا دیکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عراق کو ایک مضبوط رہنما کی ضرورت ہے جو ملک کے تمام حلقوں کے لیئے ایک اتحادی قوت ثابت ہو۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیرونی عناصر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عراق کے رہنما کے بارے میں فیصلہ کرسکیں۔
ڈاکٹر رائس کے ساتھ بغداد کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ عراق میں طاقت کا خلا عراقیوں کو زِک پہنچا رہا ہے اور ملک میں امن و امان بحال کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ کا باعث ہے۔
دونوں مغربی رہنماؤں کے خیال میں اصل مسئلہ وزارت عظٰمی کے امیدوار پر ہونے والے اختلافات ہیں۔ اگرچہ دسمبر کے انتخابات کے بعد سے ابراہیم جعفری اس عہدے پر فائز ہیں مگر ان کے لیئے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کردوں اور سنیوں کی جانب سے تو ان کی مخالفت تھی ہی، اب خود ان کے اپنے شیعہ حامیوں کی جانب سے بھی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ بھی اب ان کے بارے میں شاکی نظر آتا ہے۔
وزیرِ خارجہ جیک سٹرا کہتے ہیں: ’وزیرخارجہ رائس اور میں نے جس بات پر زور دیا ہے اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ عراق ایک خودمختار ملک ہے۔ اور یہ فیصلہ عراقی عوام کو کرنا ہے کہ وزیراعظم سمیت ان کے قائدین کون ہوں گے۔ مگر عالمی برادری، بالخصوص امریکہ اور برطانیہ اس بات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کہ عراقی وزارت عظمی کے منصب پر کب کسی کو فائز کرتے ہیں کیونکہ طاقت کا خلاء عراقیوں کوں نقصان پہنچا رہا ہے۔‘
امریکی وزیرخارجہ کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ جلدی اس بات کی ہے کہ کوئی ایسی سیاسی شخصیت سامنے آئے جو قومی اتحاد کی حکومت بنا سکے اور ابراہیم جعفری اب تک ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
![]() | |
| رائس اور سٹرا نے صدر جلال طالبانی سے بھی ملاقات کی |
صدر جلال طالبانی کے ترجمان ہیوا عثمان کہتے ہیں: ’یہ اپیل صرف جیک سٹرا نے نہیں کی بلکہ عراق کے اندر بھی یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں ہے اور عراقی گلی کوچوں میں اس دباؤ کو محسوس کرتے ہیں کہ حکومت کا جلد قیام کتنا ضروری ہے۔ میرے خیال میں مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس عمل کی رفتار اتنی تیز نہیں۔‘
بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ برطانوی اور امریکی وزرائے خارجہ نے عراقی قیادت کو بالکل واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت سازی کے معاملے میں امریکہ اور برطانیہ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوتا جا رہا ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ کے دورے کے دوران بھی عراق میں تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی۔
مزاحمت کاروں نے بغداد کے شمال مشرق میں بعقوبہ کے نزدیک ایک گاؤں قبا میں ایک شیعہ مسجد کو اڑا دیا۔ بغداد شہر سے چار لاشیں ملیں اور امریکی فوج کے مطابق بلد شہر کے قریب امریکی اور عراقی فوج کے ساتھ ایک جھڑپ میں چار مزاحمت کار ہلاک ہو گئے۔