Sunday, 02 April, 2006, 10:33 GMT 15:33 PST
نیویارک میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے حق میں ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اس مظاہرے کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ تارکینِ وطن کے خلاف زیر غور سخت قوانین کی منظوری نہ دے۔
ایوان نمائندگان نے اس بارے میں بل کی منظوری دے دی ہے اور سینیٹ اس بارے میں دوسرے اقدام پر بحث کر رہی ہے۔ اس بل کے نفاذ کے بعد درست کاغذات کے بغیر کوئی بھی امریکہ میں داخل نہیں ہو سکے۔
اس سے پہلے سنیچر کو امریکہ کے دوسرے کئی شہروں میں میں بھی ان قوانین کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔
نیو یارک میں نکالا جانا والا یہ ایک میل طویل جلوس انتہائی رنگا رنگ تھا کیونکہ اس میں شریک لوگوں نے کئی ملکوں کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے تھح ان میں سے زیادہ تر پر یہ نعرے درج تھے: ’اگر تم تارکین وطن کو تکلیف پہنچاؤ گے تو امریکہ کو تکلیف پہنچاؤ گے‘، ’ہم تمہاری معیشت ہیں‘ اور ’میں نے گراؤنڈ صاف کیا‘۔
ایک احتجاجی جیورجی کریلو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس کا خاندان ایکوڈور سے ہے اور امریکہ میں غیر قانونی طور پر ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ میں، قانونی یا غیر قانونی۔ ہمیں بولنا چاہیے، ہمیں اس مسئلے پر بات کرنی چاہیے۔
اس احتجاج کا مقصد اس قانون کی حتمی منظوری کو رکوانا ہے جس میں تارکین وطن کی تعریف بطور مجرم کی گئی ہے اور میکسیکو کی سرحد سے ملنے والے سات سو میل لمبی سرحد پر باڑ تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے تا کہ اس طرف سے تارکیںِ وطن کی آمد بند کی جا سکے۔
مجوزہ قانون میں غیر قانونی تارکیں وطن کو کام دینے والوں کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہے۔