Sunday, 02 April, 2006, 11:36 GMT 16:36 PST
عراق میں جاری تشدد کے دوران اپنے خاندان اور دونوں ہاتھوں سے محروم ہونے والے پندرہ سالہ لڑکے کی بنائی گئی تصاویر کی نمائش لندن کی ایک آرٹ گیلری میں ہو رہی ہے۔
علی عباس نامی اس لڑکے نے یہ تصاویر اپنے پیروں کی مدد سے بنائی ہیں۔ ریورسائیڈ آرٹ گیلری کے’ کیوریٹر‘ مارک ڈینوولز کا کہنا ہے کہ’ ان تصاویر نے مجھے بہت متاثر کیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ’ میں زخمی ہونے کے صرف چار ماہ بعد علی کی جانب سے اتنے شوخ رنگوں کا استعمال دیکھ کر حیران ہوں‘۔
علی عباس کی زیادہ تر تصاویر میں رنگ برنگے پھول بنائے گئے ہیں جبکہ دو تصاویر ایک مینار اور ایک مسجد کی ہیں۔ جنوب مغربی لندن کے علاقے رچمنڈ میں ہونے والی نمائش میں علی کی تصاویر کے علاوہ دیگر عراقی فنکاروں کی تصاویر بھی رکھی گئی ہیں۔
’لمب لیس ایسوسی ایشن‘ کے سربراہ ظفر خان کا کہنا ہے کہ’ ہم اس شاندار نمائش کا حصہ بن کر بہت خوش ہیں کیونکہ اس میں معذور افراد کی تخلیقات اور فن کی ترویج کی جا رہی ہے‘۔
علی عباس کی عمر اس وقت صرف بارہ سال تھی جب ان کے والدین اور خاندان کے تیرہ دیگر افراد بم دھماکے میں مارے گئے تھے اور اس دھماکے کے بعد زخمی اور جلے ہوئے علی کی تصاویر دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہوئی تھیں۔ علی کو علاج کے لیئے لندن لایا گیا تھا اور وہیں انہیں مصنوعی اعضاء بھی لگائے گئے تھے۔