http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 02 April, 2006, 14:00 GMT 19:00 PST

اینڈریو نارتھ
بی بی سی بغداد

عراقی ملیشیا گروہ اورعدم استحکام

امریکی حکام عراق میں سیاست دانوں پر مسلح گروہوں کو قابو کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ عراق میں پایا جانے والا عدم استحکام اور تشدد کی بڑی وجہ انہی گروہوں کو سمجھا جا رہا ہے۔

ایک اعلٰی امریکی اہلکار نے کہا کہ عراق حکومت کو مسلح گروہوں کے متعلق واضح پالیسی اپنانا ہو گی جنہیں امریکی سفارت خانہ اب مسلح گینگ کہتا ہے۔

لیکن بہت سے لوگ امریکی فوجی اور سفارتی پالیسی میں ان مسائل کے بارے میں ابہام دیکھتے ہیں جو کہ سخت اقدامات لینے میں بظاہر رکاوٹ ہیں۔

شیعہ ملیشیاء کے ارکان کو فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ عراق میں اور خاص طور پر بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں گزشتہ چند ہفتوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

عراق میں یہ فرقہ وارانہ قتل عام جاری ہے اور عراقی حکام اس بارے میں کوئی اقدام اٹھانے کے نہ اہل اور نہ ہی تیار نظر آتے ہیں۔

بہت سے عراقیوں کا خیال ہے کہ یہ گروہ حکومت سے مذاکرات کرنے والی سیاسی جماعت اور سیاسی رہنماوں سے منسلک ہیں۔ یہ عناصر پولیس میں شامل ہو گئے ہیں۔

بغداد میں لاشوں کا ملنا روزہ مرہ کا معمول بن گیا ہے۔ ہفتے کو امریکی اور عراق پولیس کو پندرہ لاشیں ملیں جن کے بارے میں خیال کیا رہا ہے کہ یہ لوگ فرقہ وارانہ تشدد کا نشانہ بنے۔

ان لوگ کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے اور ان کو گولی ماری گئی تھی۔