Saturday, 01 April, 2006, 17:04 GMT 22:04 PST
عراق کے شیعہ اتحاد کے ارکان پہلی مرتبہ ابراہیم جعفری پر زور دے رہے ہیں کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے سے دستبردار ہو جائیں تاکہ ایک متحدہ حکومت قائم کی جاسکے۔
یہ کال اتحاد کے ایک اہم سیاستدان قاسم داؤد کی طرف سے دی گئی ہے تاکہ سیاسی تعطل کو ختم کیا جاسکے۔ ’میں ابراہیم جعفری سے کہتا ہوں کہ وہ یہ بہادرانہ قدم اٹھاتے ہوئے اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور ایک اچھی مثال قائم کریں‘۔
سنی اقلیت اور کرد حلقے ابراہیم جعفری کے حامی نہیں ہیں۔
اہم شیعہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ انہیں عراق کے لیئے امریکی سفیر نے بتایا ہے کہ امریکہ بھی ابراہیم جعفری کے حق میں نہیں ہے۔
دوسر جانب ابراہیم جعفری نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ عراق کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ کہا جارہا ہے کہ ان کا اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایک بڑے اتحادی دھڑے سپریم کونسل آف اسلامک ریوولوشن سے منسلک سعد جواد قندیل کا کہنا ہے کہ ابراہیم جعفری کے دستبردار ہونے کے لیئے کئی حلقے متحد ہیں۔
ابراہیم جعفری کا انتخاب حکمراں شیعہ اکثریتی حکمراں اتحاد نے دسمبر کے انتخابات میں فتح کے بعد کیا تھا۔ تاہم کرد اور سنی حلقے اس چناؤ کے خلاف تھے اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اgر جعفری کو نہ ہٹایا گیا تو وہ اتحادی حکومت کے قیام کا بائیکاٹ کردیں گے۔