Saturday, 01 April, 2006, 10:10 GMT 15:10 PST
فرانس میں ٹریڈ یونین رہنماؤں نے صدر شیراک کی طرف سے نئے لیبر قانون پر دستخط کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے
ٹریڈ یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ نئے لیبر قانون کے خلاف اپنے احتجاج کو آگے بڑھائیں گے اور اگلے ہفتے احتجاج کا سلسلہ پھر شروع کیا جائے گا۔
ٹریڈ یونین اور طالبعلم رہنماؤں کا یہ ردِ عمل صدر ژاک شیراک کے اس فیصلے کے بعد سامنا آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اس متنازعہ قانون پر دستخط کریں گے۔
مظاہرین اس نئے قانون کے خلاف آواز اٹھارہے تھے جس کے تحت چھبیس سال سے کم عمر کے ملازمین کو ملنے والے دو سالہ کنٹریکٹ بغیر وجہ بتائے ختم کیے جاسکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق حالیہ برسوں میں فرانس کی معیشت کی کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے جس کی وجہ سے وہاں روزگار کے مواقع کم ہیں اور حکومتی رہنما معیشت میں بہتری لانے کے لیے مختلف پالیسیوں پر غور کرتے رہے ہیں۔
صدر ژاک شیراک نے جمعہ کےروز قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قانون کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس میں چند تبدیلیاں کریں گے۔
صدر شیراک نے کہا کہ نئے قانون میں چھبیس سال سے کم عمر لوگ جن کی سروس ایک سال ہوگی کو بغیر وجہ بتائے نکالا جا سکے گا۔
موجودہ قانون کے مطابق ایسے ملازمین کو جن کی عمر چھبیس سال سے کم ہے اور ان کی ملازمت کا کنٹریکٹ دو سال کا ہے کو بغیر وجہ بتائے نکالا جا سکے گا۔
صدر یاک شیراک نے کہا وہ دو سال کی مدت کو ایک سال میں تبدیل کر دیں گے اور اس کے علاوہ آجر کو ملازمت سے برخواست کرنے کی وجہ بتانی پڑے گی۔
ٹریڈ یونین اور طالبعلم رہنماؤں نے ژاک شیراک کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے لیکن کسی غیر خوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
پیرس میں بی بی سی کے نمائندے کیرولین وائٹ کے مطابق صدر شیراک سب کا دل جیتنے کی کوشش میں کسی کا دل بھی نہیں جیت سکے۔