Wednesday, 29 March, 2006, 09:28 GMT 14:28 PST
اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات میں قائم مقام وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کامیابی حاصل کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی اسرائیلی سرحد کے تعین کا عہد کیا ہے۔
سابق وزیر اعظم ایریئل شیرون نے، جو اب کوما کی حالت میں ہیں، قدیمہ پارٹی محض چار ماہ پہلے قائم کی تھی۔ یہ جماعت انتخابات میں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے۔ایہود اولمرت کی قیادت میں پارٹی نے کچھ مقبوضہ علاقوں پر قائم یہودی بستیاں ختم کر کے اسرائیل کی سرحدوں کے تعین کرنے کے وعدے پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔
’یکطرفہ منصوبے ترک کریں‘ |
ایہود اولمرت نے کہا ہے اسرائیل کو اب فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات سے مستقل سرحدوں کا تعین کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ تاہم ساتھ ہی ان کا یہ دعوٰی بھی تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ 2010 تک اسرائیل کی مستقل سرحد کے تعین کے لیئے یکطرفہ فیصلہ کریں گے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ واضح اکثریت حاصل نہ کرنے کے باعث انہیں حکومت سازی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
منگل کو ہونے والی ووٹنگ میں آخری لمحات میں لوگ سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اپیلوں کے باوجود ووٹ ڈالنے کی شرح اسرائیل کی انتخابی تاریخ میں بہت کم رہی اور صرف باسٹھ عشاریہ تین فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔
اولمرت نے کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ ’اسرائیل کی سرحدوں کے تعین کے ساتھ اسرائیل ایک ایسی ریاست بن جائے گا جس میں یہودیوں کی اکثریت ہوگی‘۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل مفاہمت کے لیے تیار ہے اور کچھ ایسے علاقے چھوڑنے کو تیار ہے جہاں اس کے بیٹے دفن ہیں تاکہ فلسطینی اپنی علیحدہ ریاست قائم کرکے امن سے رہ سکیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فلسطین اسرائیل کو تسلیم کرلے۔
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی براؤن کا کہنا ہے کہ اولمرت کو اپنے مشن کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا کرنے پڑے گا۔