Monday, 27 March, 2006, 02:42 GMT 07:42 PST
فلسطینی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد حماس کی طرف سے تشکیل کردہ حکومت کی کابینہ اور اس کا ایجنڈا منظوری کے لیئے قانون ساز کونسل کے سامنے پیش کردیئے گئے ہیں۔
امکان ہے کہ حماس کی اکثریتی حکومت جس نے اسمٰعیل ہانیہ کا وزیر اعظم نامزد کیا ہے، اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیں گے۔ اس مرحلے کو محض ایک رسمی کارروائی تصور کیا جارہا ہے۔
توقع ہے کہ نئی کابینہ فلسطینی پارلیمان سے آج اعتماد کو ووٹ حاصل کرلے گی تاہم یہ عمل کچھ موخر بھی کیا جاسکتا ہے۔ حماس کا کہنا ہے نئی کابینہ بدھ کو حلف اٹھالے گی۔
فلسطینی کو امداد دینے والے ملکوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہ کیا اور مسلح جدوجہد بند نہ کی تو فلسطین کی امداد بند کر دی جائے گی۔
اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام انصاف پر مبنی قیام امن کے متمنی ہیں۔ انہوں نے عرب ملکوں سے کہا ہے کہ وہ فلسطین کی فوری امداد کرنے کے لیے متفق ہو جائیں تاکہ مغربی ملکوں اور اداروں کی طرف سے امداد بند ہوجانے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو آزادانہ طور پر اپنا رہنما چننے کا حق استعمال کرنے کی سزا نہیں ملنی چاہئیے۔
حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطینی سرزمین پر صیہونی تسلط کر تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
فلسطینی پارلیمان کا اجلاس رملاح میں مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے شروع ہوا۔
اسمٰعیل ہانیہ نے وڈیو لنک کے ذریعے اسمبلی سے خطاب کیا کیونکہ اسرائیل نے حماس رہنماؤں کے غزہ سے غرب اردن جانے پر پابندی عائد کررکھی تھی۔
2005 میں یورپی یونین فلسطین کا امداد پہنچانے والا سب سے بڑا ادارہ تھا۔ تاہم اس نے اب فلسطین کو متنبہ کیا ہے کہ مستقبل کی امداد کا انحصار حماس کے رویہ پر ہے۔
اسمعیل ہانیہ نے فلسطین کے لیئے چار بین الاقوامی مزاکرات کاروں یورپی یونین، اقوام متحدہ، امریکہ اور روس سے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا۔