Sunday, 26 March, 2006, 15:09 GMT 20:09 PST
اسرائیل کے قائم مقام وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی مستقل سرحد کا تعین امریکی مشورے سے کیا جائے گا۔
انتخابات سے دو روز قبل ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلیوں کواب یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ ان کے ملک کی سرحد کہاں ہونی چاہیے۔
اسرائیلی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے ایہود اولمرٹ نے کہا کہ فلسطینوں سے مکمل علیحدگی کے لیے اسرائیل کو اپنی مستقل سرحد کے بارے میں فیصلہ کر لینا چاہیے۔
ایہود اولمرٹ اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون کی بیماری کے بعد سیاسی جماعت قدیما کی قیادت کررہے ہیں۔ وہ کہتے رہے ہیں کہ متنازعہ غرب اردن کی فصیل کو مستقل سرحد میں تبدیل کر دیا جانا چاہیے۔
یروشلم میں بی بی سی کی نمائندہ کیرولین ہولی کے مطابق غرب اردن کی دیوار کو مستقل سرحد بنانے میں اسرائیل کو مکمل عالمی حمایت حاصل نہیں ہو سکے گی کیونکہ متنازعہ فصیل کے کچھ حصے فلسطینی علاقوں میں ہیں اور اقوام متحدہ بھی اس فصیل پر اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہے۔
ایہود اولمرٹ کے مطابق امریکہ اور دوسرے ممالک سرحدوں کے تعین کے بارے میں اسرائیل کی بات کھلے دل سے سننے کے لیے تیار ہیں۔
ایہود اولمرٹ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی جماعت انتخابات میں کامیاب ہو گئی تو وہ چار سالوں میں یکطرفہ طور پر اسرائیل کی سرحد کا تعین کر دیں گے۔
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ایہود اولمرٹ کے منصوبوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے امن کی راہ میں رکاوٹ پڑے گی اور سرحدوں کا تعین باہمی گفت و شنید سے ہونا چاہیے۔