Sunday, 26 March, 2006, 17:02 GMT 22:02 PST
عراق میں حکام نے کہا ہے کہ انہیں بعقوبہ کے قریب تیس سر کٹی لاشیں ملی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
لاشیں ایسے وقت ملی ہیں جب امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ عراق میں سلامتی کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سال عراق میں موجود امریکی فوج میں قابل ذکر حد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ اس وقت عراق میں ایک لاکھ تینتیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پینٹاگون سن دو ہزار چھ میں یہ تعداد کم کر کے ایک لاکھ کرنا چاہتی ہے۔
اتوار کو ہی بغداد میں پولیس نے مختلف علاقوں سے دس افراد کی لاشیں برآمد کیں۔
دریں اثنا نجف میں اطلاعات کے مطابق شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے گھر کے قریب مارٹر کا ایک گولا گرا ہے۔ اس حملے میں ایک بچہ اور ایک محافظ زخمی ہوئے ہیں۔
مقتدی الصدر کے رفقاء نے بتایا ہے کہ وہ حملے کے وقت گھر میں موجود تھے لیکن انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے چوکنا رہنے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر قابض قوتیں اس کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
ان واقعات کے ساتھ ساتھ بغداد میں متفقہ قومی حکومت کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ عراق میں تین ماہ قبل پارلیمانی انتخابات کے بعد سے حکومت سازی کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔