http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 25 March, 2006, 16:00 GMT 21:00 PST

’روس نے عراق کو انٹیلیجنس دی‘

روس نے ان امریکی الزامات کو رد کردیا ہے کہ عراق جنگ کے ابتدائی دنوں میں اس نے صدام حسین کو امریکی فوج کی حرکات و سکنات کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔

روس کی خارجہ انٹیلیجنس سروس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ روس کی انٹیلیجنس پر ماضی میں بھی ایسے بے بنیاد الزامات عائد کیئے جاتے رہے ہیں۔

پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دو ہزار تین میں امریکہ کی سالاری میں عراق کے خلاف جنگ میں روس نے امریکی فوج کی میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی کی اطلاعات صدام حسین کو فراہم کی تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس نے یہ انٹیلیجنس بغداد میں اپنے سفیر کے ذریعے عراقی حکام تک پہنچائی۔

رپورٹ کے مطابق روس نے امریکی فوج کی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے خفیہ اطلاعات بغداد میں اپنے سفیر کے ذریعے صدام حسین تک پہنچائی تھیں۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اطلاعات میں سے ایک اطلاع غلط تھی جس کی وجہ سے امریکی فوج کی ایک غیر ارادی غلط کوشش نے خود امریکی فوج کو فائدہ پہنچایا۔

یہ غلط اطلاع اس امر پر مبنی تھی کہ امریکی فوج بغداد پر بڑا حملہ کس تاریخ کو کرے گی۔

دو اپریل دو ہزار تین کی ایک دستاویز جو عراق کے وزیرِ خارجہ نے صدام حسین کو بھیجی تھی اس میں روسی انٹیلیجنس کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ بغداد پر حملہ امریکی فوج کے انفینٹری ڈویژن کے پندرہ اپریل کے قریب پہنچنے سے قبل شروع نہیں ہوگا۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق عراقی دارالحکومت پر اصل حملہ اس ڈویژن کے آنے سے کافی پہلے شروع ہوگیا تھا اور بغداد پرامریکی فوج کا قبصہ پندرہ اپریل سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔

اس رپورٹ کےمطابق روسی انٹیلیجنس سے عراق کو یہ پتہ چلا تھا کہ اصل امریکی حملہ کویت کی طرف سے آنے والی امریکی فوج کرے گی۔

عراقی وزیرِ خارجہ کی دستاویز کے مطابق بغداد کا رابطہ دیگر ملک سے کاٹنے کے لیئے امریکی فوج جنوب، مشرق اور شمال کی طرف سے بڑھ رہی تھی۔

تاہم عراق کو روسی خفیہ اطلاعات کے ذریعے یہ پتہ چلا تھا کہ کویت کی طرف سے ہونے والا حملہ صرف عراقی فوج کو بھٹکانے کی ایک کوشش ہے۔

پینٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عراقی حکومت کو امریکہ حملے کی سنگینی کا ہرگز علم نہیں تھا جس کی ذمہ دار صدام حسین کی بے محل اور بھونڈی فوجی قیات تھی۔
دو سو دس صفحات کی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’عراقی فوج کی شکست میں سب سے بڑا کردار صدام حسین کی بار بار کی مداخلت نے ادا کیا۔‘