Saturday, 25 March, 2006, 14:38 GMT 19:38 PST
بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہزاروں افراد متنازعہ صدارتی انتخابات کے خلاف شہر کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بیلروس کی خصوصی افواج نے ’اکتوبر سکوائر‘ نامی مقام کی ناکہ بندی کردی ہے۔ اسی مقام سے پولیس نے جمعہ کو ایک احتجاجی کیمپ بھی ہٹایا تھا۔
پولیس کے سینکڑوں اہلکار مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے اور منتشر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کچھ افراد ’بیلروس زندہ باد‘ کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ ماحول کشیدہ ہے تاہم ابھی تک کوئی تشدد آمیز واقعہ نہیں پیش آیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار ایما سمپسن کا کہنا ہے حکام کی کوشش ہے کہ مظاہروں کو آج ہی روک دیا جائے۔
کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیئے پولیس کے ساتھ جیل کی گاڑیاں اور ایمبولینسیں موجود ہیں۔حزب مخالف کے اہم رہنما الیگزینڈر ملینکووچ، جنہوں نے ان مظاہروں کی کال دی تھی، مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ ایک قریبی پارک میں جمع ہوجائیں۔
ہفتہ کا مظاہرہ ایسے دن پر کیا گیا ہے جب 1918 میں بیلاروس کو آزادی ملی تھی۔
’اکتوبر سکوائر‘ میں جاری پانچ روزہ مظاہرہ جمعہ کو پولیس کی مداخلت سے روک دیا گیا تھا۔ سینکڑوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ کئی کا دعوٰی ہے کہ انہیں حراستی مرکز میں مارا پیٹا بھی گیا ہے۔
بین الاقوامی معائنہ کاروں نے گزشتہ اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات پر کڑی تنقید کی ہے۔ انتخابات میں صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بیاسی فیصد ووٹ حاصل کیئے جس کے ساتھ ہی انہوں نے تیسری دفعہ سات سالہ میعاد کا صدارتی عہدہ حاصل کرلیا ہے۔
بیلاروس کا اصرار ہے کہ انتخابات شفاف تھے۔