Thursday, 23 March, 2006, 17:04 GMT 22:04 PST
افغانستان میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدلیہ ایک افغان شہری کے اسلام ترک کر کے عیسائی عقیدہ اپنانے کے مقدمہ میں کسی بھی بیرونی دباؤ میں نہیں آئے گی۔
سپریم کورٹ کے ایک جج انصار اللہ مولوی زادے کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک آزاد مملکت ہے اور عدلیہ مقدمے کی کارروائی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے چلائے گی۔
مذہب تبدیل کرنے والے عبدالرحمٰان کے خلاف مقدمہ قائم کیے جانے کی خبر پر امریکی صدر جارج بش سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے مذکورہ شخص کی جان کو لاحق خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عبدالرحمٰان نے پندرہ سال قبل افغان پناہ گزینوں کی ایک امدادی تنظٌیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے مذہب تبدیل کیا تھا۔