Wednesday, 22 March, 2006, 03:39 GMT 08:39 PST
اٹلی اور جرمنی کے بعد اب امریکہ نے بھی افغانستان میں اس شخص کو جیل بھیجنے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے جس نے اسلام ترک کرکے عیسائیت قبول کرلی ہے۔
اگر عبدالرحمٰن دوبارہ مسلمان ہونے سے انکار کرے تو شرعی قوانین کے تحت اسے موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنس نے افغانستان سے کہا ہے کہ مذہبی آزادی کے اصول پر پوری طرح عمل کیا جائے تاہم انہوں نے عبدالرحمٰن کی رہائی کے لیئے نہیں کہا۔
واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ امریکہ کے لیئے ندامت کا باعث بن سکتا ہے جس نے افغانستان میں جمہوریت اور آزادی کے قیام کےلیئے بڑے پیمانے پر وسائل صرف کیے ہیں۔
سولہ برس قبل پاکستان میں پناہ گزینوں کے لیئے عیسائی امدادی ادارے کے ساتھ کام کرنے کے دوران عبدالرحمٰن نے مذہب تبدیل کیا تھا۔ ان کے خاندان نے انہیں چھوڑنے کے بعد بچوں کی تحویل کے معاملے میں عبدالرحمٰن کی مذمت کی تھی۔
یہ افغانستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس سے ملک کے اصلاح کاروں اور بنیاد پرستوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی واضح ہوتی ہے۔
طالبان حکومت کے خاتمے کے چار سال بعد اب بھی افغان عدلیہ میں بنیاد پرستوں کی اکثریت ہے۔
حامد کرزئی کی حکومت اور دیگر اصلاح کار ملک میں آزادانہ اور سیکولر قانونی نظام چاہتے ہیں لیکن موجودہ آئین کے تحت یہ ممکن نہیں۔
گزشتہ ماہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس سے ایک بائبل برآمد ہوئی تھی۔
عدالتی جج انصاراللہ کا کہنا ہے کہ اگر 41 سالہ عبدالرحمٰن نے اپنا فیصلہ بدل لیا تو مذہب اسلام کے قانون کے تحت انہیں معاف کردیا جائے گا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کی دماغی حالت کا تجزیہ کیا جائے گا ۔
جج کا کہنا تھا کہ مقدمے کے فیصلے تک پہنچنے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔