Wednesday, 22 March, 2006, 02:22 GMT 07:22 PST
امریکہ میں ایک فوجی عدالت نے ابو غریب کے قید خانے میں کام کرنے والے ایک فوجی کو جو کتوں کی دیکھ بھال کرتا تھا اس جرم کا مرتکب پایا ہے کہ اس نے عراقی قیدیوں پر کتے چھوڑ ے تھے تاکہ ان کو خوفزدہ دیکھ کر مزا لے سکے۔
میری لینڈ کی ایک فوجی عدالت نے سارجنٹ مائیکل سمتھ کو 13 میں سے چھ الزامات کے تحت مجرم قرار دیا جن میں قیدیوں سے بدسلوکی، ڈیوٹی سے غفلت اور حملے جیسے الزامات شامل ہیں۔
استغاثہ کے مطابق چوبیس سالہ مائیکل سمتھ نے اپنے کالے بیلجیئم شیفرڈ کتے کو اپنی تفریحِ طبع کے لیے قیدیوں کو ڈرانے کے لیے استعمال کیا۔
مائیکل سمتھ ابوغریب جیل کے معاملے میں سزا پانے والے دسویں فوجی ہیں۔
استغاثہ کے مطابق ایک موقع پر مائیکل سمتھ نے کتوں کی نگہداشت کرنے والے ایک اور فوجی سے اس بنیاد پر مقابلہ کیا کہ کون قیدی کو کتے سے ڈرا کر رفع حاجت پر مجبور کر سکتا ہے۔
ابوغریب میں قیدیوں سے بدسلوکی سے متعلق سامنے آنے والی تصویروں میں سے ایک میں مائیکل سمتھ کو اپنا کتا ایک ایسے قیدی کے چہرے سے قریب لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس نے ڈر سے سر جھکایا ہوا ہے۔
امریکی فوجی عدالت نے تین دنوں کے دوران اٹھارہ گھنٹے تک کیس کی سماعت کرنے کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔