Tuesday, 21 March, 2006, 05:15 GMT 10:15 PST
ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے زکریا موساوی کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کو بتایا کہ ممکنہ ہائی جیک پلاٹ کے بارے میں ان کی رپورٹ کو ان کے سینیئرز نے نظرانداز کردیا تھا۔
ایف بی آئی اہلکار ہیری سامٹ جنہوں نے زکریا موساوی کو گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں سے ایک ماہ پہلے گرفتار کیا تھا عدالت کو بتایا کہ انہوں نے 18 اگست کو اپنے افسران کو خبردار کیا تھا کہ ان کے خیال میں موساوی ایک دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
لیکن، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کے صدر دفتر نے ان کی اس درخواست کو رد کر دیا کہ ملزم موساوی کی املاک کی تلاشی کے لیے ضروری وارنٹ حاصل کئے جائیں۔
استغاثہ کے وکلاء نے الزام لگایا ہے کہ گیارہ ستمبر کے پلاٹ سے متعلق ان کے جھوٹ نے ہیری سامٹ کی درخواست پر عمل درآمد کرنے سے روکا۔
دوسری طرف زکریا موساوی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد دیئے گئے موساوی کے بیانات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اپنے بیوروکریٹک ڈھانچے کی وجہ سے ایف بی آئی ایسی کسی رپورٹ پر فوری عمل درآمد نہیں کر سکتی۔
زکریا موساوی جو القاعدہ کا رکن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں گیارہ ستمبر کے دہشت گرد منصوبے میں کسی حصے داری سے انکار کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہوائی جہازوں کو وائٹ ہاؤس پر گرانے سے متعلق بنائی جانے والی ایک بڑی سازش میں شرک تھے۔
زکریا موساوی واحد ملزم ہیں جن کے خلاف امریکہ میں نیویارک اور واشنگٹن میں دہشت گرد حملوں کے سلسلے میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
ورجینیا کی اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ایف بی آئی کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ زکریا موساوی کے بارے میں ان کی وارننگ کو ایف بی آئی ہیڈکوارٹر میں تعینات ان کے اعلیٰ افسران نے رد کر دیا تھا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے موساوی سے پوچھ گچھ کرنے کے فوری بعد ہی اپنے سینیئرز کو خبردار کیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں موساوی دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔