Tuesday, 21 March, 2006, 17:43 GMT 22:43 PST
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ عراق خانہ جنگی کا شکار ہوچکا ہے تاہم انہوں نے عراقی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا: ’عراقیوں کے لیے بکھر جانے کا موقع تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘
گزشتہ ہفتے عراق کے سابق عبوری وزیراعظم ایاد علاوی نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پچاس سے ساٹھ لوگ روز مررہے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ عراق خانہ جنگی کا شکار ہوچکا ہے۔
امریکی صدر اپنی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے خطاب کررہے تھے جو کہ اس سال کا ان کا دوسرا سب سے اہم پریس کانفرنس تھا۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ عراق میں آنے والے دنوں میں مشکل لڑائی ہے۔ صدر بش نے کہا: ’دہشت گردوں نے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں۔ وہ بہت کٹر ہیں۔ وہ ہلاک کرنا پسند کرتے ہیں۔‘
لیکن انہوں نے فرقہ وارانہ تشدد اور سامرہ میں گزشتہ ماہ روضۂ عسکری کو بم سے اڑانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’عراقیوں نے اسے دیکھا اور خانہ جنگی کا شکار نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔‘ امریکی صدر نے کہا کہ عراقی ’فوج فرقہ وارنہ تشدد میں تباہ نہیں ہوگئی بلکہ متحد رہی۔‘
جارج بش نے کہا کہ کئی لوگ ہیں جو ایاد علاوی کی اس بات سے متفق نہیں کہ عراق خانہ جنگی کا شکار ہوچکا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے عراقی صدر جلال طالبانی اور امریکی فوج کے کمانڈر جارج کیسی کی نشاندہی کی۔ صدر بش نے عراق کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو امن کی اپیل کے لیے سراہا۔
امریکی صدر نے کہا عراقی حکومت کو اپنی بہتر تربیت یافتہ پولیس کے ذریعے فرقہ وارانہ تشدد سے نمٹنا ہوگا۔ عراق پر حملوں کے تین سال پورے ہونے کی مناسبت سے بات کرتے ہوئے جارج بش نے کہا کہ عراق میں ان کا لائحۂ عمل کامیاب رہے گا۔
انہوں نے عراق میں امریکی فوجیوں کے رول کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’اگر مجھے یقین نہیں ہوتا کہ ہم کامیاب ہوں گے تو میں وہاں نہیں جاتا۔ میں ان لڑکوں کو وہاں نہیں بھیجتا۔‘
جارج بش کا یہ پریس کانفرنس ایسے وقت منعقد کیا گیا ہے جب جنگِ عراق کے لیے صدر کی عوامی حمایت میں کمی آرہی ہے۔ گزشتہ ہفتے رائے شماری کے ایک جائزے سے پتہ چلا کہ ان کی ذاتی حمایت صرف چھتیس فیصد رہ گئی ہے جبکہ ایک سال پہلے یہ ستاون فیصد تھی۔