Wednesday, 15 March, 2006, 07:36 GMT 12:36 PST
یوگو سلاویہ کے سابق صدر سلوبوڈان ملاشووِچ کے خاندان نے کہا ہے کہ ان کی تدفین سربیا میں ہوگی۔ اس اعلان کے بعد وہ تمام قیاس آرائیاں ختم ہوگئی ہیں جو ان کی آخری آرامگاہ کی جگہ چننے سے متعلق کی جارہی تھیں۔
ملاشووچ کے قانونی مشیر نے بتایا ہے کہ سابق صدر کی آخری رسومات بلغراذ میں ادا کی جائیں گی، جہاں ان کی میت بدھ کو متوقع طور پر لائی جائے گی۔
ہیگ میں جنگی جرائم کے ٹرائیبیونل نے ملاشووچ کی موت کے تین دن بعد ان کی میت منگل کو ان کے بیٹے کے سپرد کی تھی۔
اس سے قبل ملاشوچ کے بیٹے مارکوملاشوچ نے سربیائی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کے والد کی سربیا میں تدفین کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
چونسٹھ سالہ سابق یوگوسلاویہ رہنما ہیگ کی جیل میں ہلاک ہوئے تھے اور کہا گیا ہے کہ ان کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے۔
ملاشووچ کی موت کے بعد سے ان کی سیاسی جماعت اور بلغراد کی مقامی انتظامیہ کے درمیان ان کی تدفین کے سلسلے میں مذاکرات جاری تھے۔
آخری رسومات کے لیئے پہلے انتظامیہ نے جس جگہ کی تجویز پیش کی تھی وہ ملاشو وچ کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کردی تھی کہ انہیں آخری رسومات کے لیئے بڑی جگہ درکار ہے۔
ملاشوچ کی بیوہ اور بیٹا روس میں مقیم ہیں۔ مارکو کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو قتل کیا گیا ہے۔ پہلے مارکو نے کہا تھا کہ وہ اپنی والدہ کے تحفظ کے لیئے اپنے والد کی آخری رسومات ماسکو میں کرنا چاہتے ہیں۔
ملاشوچ کی بیوہ نے مطالبہ کیا ہے کہ سربیا میں ان کے گرفتاری کے احکامات کو واپس لیا جائے۔ ان پر دھوکہ دہی کے کئی الزامات ہیں۔
لیکن عدالت نے کہا ہے کہ ملاشووچ کی بیوہ کو سربیا پہنچ کر اپنا پاسپورٹ عدالت کے حوالے کرنا ہوگا اور 23 مارچ کو بدعنوانی کے مقدمہ میں عدالت میں بھی حاضر ہونا پڑے گا۔ دوسری جانب سربیا کی پولیس بھی ان سے پوچھ گچھ کا ارادہ رکھتی ہے۔
پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق سلوبوڈان ملاشووِچ کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ تاہم ابھی ٹوکسیکولوجیکل ٹیسٹ مکمل نہیں ہوئے۔
ملاشووِچ نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ انہیں ایسی دوائیں دی جا رہی ہیں جن کے استعمال سے بلڈ پریشر کم رکھنے کے لیے دی جانے والی دوائیں اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔
ابھی پوسٹ مارٹم کے حتمی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں تاہم جنگی جرائم کے ٹرائیبیونل کا کہنا ہے کہ ملاشووچ کو ان کی بیماری کے مطابق درست دوائیں ہی دی گئی ہیں۔