Wednesday, 15 March, 2006, 15:50 GMT 20:50 PST
عراق میں پولیس کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے پانچ بچے سمیت گیارہ افراد کو بلد کے ایک گھر پر حملے میں ہلاک کر دیا ہے۔
تاہم امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائی میں چار افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک بچہ شامل تھا۔ موقع پر لی گئی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے فوٹوگرافر نے جو تصاویر اتاری ہیں ان میں کم از کم سات لاشیں دکھائی دے رہی ہیں جن میں پانچ بچے شامل ہیں۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک مشتبہ مزاحمت کار کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔
بغداد سے تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ دو شیعہ زائرین کو گولی مار کر نا معلوم افراد نے ہلاک کیا جبکہ تیسرہ شخض بم دھماکے میں مارا گیا۔
ادھر بقوبہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق خود کش بم حملوں میں چار افراد مارے گئے ہیں۔
بدھ کو ہونے والی یہ ہلاکتیں نئی عراقی پارلیمان کے افتتاح سے ایک روز پہلے ہوئی ہیں۔ پارلیمان کے لیے انتخابات دسمبر میں ہوئے تھے۔ بغداد میں بدھ کی شام آٹھ بجے سے جمعرات کی دوپہر تک کرفیونافذ کی جائے گی تاکہ پارلیمانی تقریب کے لئے سکیورٹی سخت کی جا سکے۔
عراقی حکام نے کربلا میں نجی گاڑیوں کے داخلے پر چھ روز کی پابندی لگا دی ہے۔ توقع ہے کہ جمعہ کے روز لوگوں کی بڑی تعداد کربلا میں چہلم منانے کے لیے جمع ہوگی۔ نجی گاڑیوں پر یہ پابندی سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر لگائی گئی ہے۔