Monday, 13 March, 2006, 15:29 GMT 20:29 PST
عراق کے معزول صدر صدام حسین پر جاری مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے ایک ساتھی ملزم نے دجیل میں ایک سو اڑتالیس شیعہ عراقیوں کی ہلاکت کا اقرار کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل قانون کے تحت تھا۔
عواد حامد البندر نے بغداد میں عدالت کو بتایا کہ ان افراد پر قانون کے مطابق مقدمہ چلایا گیا تھا۔ انہوں نے ان افراد کو سزائے موت دینے کا بھی اعتراف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام افراد نے دو ہفتے چلنے والے اس مقدمے کے دوران اعترافِ جرم کیا تھا۔
عواد البندر کا کہنا تھا کہ’ انہوں نے جمہوریہ کے صدر پر حملہ کیا اور اس کا اعتراف بھی کیا۔ اس گروہ نے ایران سے اس حملے کا حکم ملنے کا اعتراف بھی کیا تھا‘۔
اس بیان پر استغاثہ کا کہنا ہے کہ عواد کا بیان ایک ’فرضی‘ مقدمے کے بارے میں ہے اور مرنے والے کبھی انقلابی عدالت کے سامنے پیش ہی نہیں کیے گئے۔
عواد اسّی کے عشرے کے اوائل میں انقلابی عدالت کے جج تھے اور وہ 1982 میں دجیل میں اس وقت کے صدر صدام حسین پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد قریباً ڈیڑھ سو افراد کے قتل عامِ کے مقدمے کے شریک ملزم ہیں۔
اس سے قبل پیر کو ہی عدالت میں دجیل میں بعث پارٹی کے رہنما محمد عواضی علی کا بیان بھی قلمبند کیا گیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے دجیل سے کسی بھی شخص کوگرفتار کرنے سے انکار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے دجیل سے ایک کیڑے تک کو گرفتار نہیں کیا۔ میں نے نہ ہی عوام کے بارے میں رپورٹیں لکھیں اور اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو اسے میرے سامنے لایا جائے‘۔
اس مقدمے کے تمام ملزمان کے بیان قلمبند کیے جانے ہیں تاہم یہ واٰضح نہیں کہ صدام حسین کب اپنا بیان دیں گے۔ اس مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر صدام حسین کو موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔