http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 12 March, 2006, 12:01 GMT 17:01 PST

بیان کے لیے صدام عدالت میں

سابق عراقی صدر صدام حسین اور ان کے ساتھی اپنے خلاف چلنے والے مقدمے میں اتوار کو بیان دینے کے لیے عدالت میں حاضر ہوں گے۔

صدام پر 1982 میں دجیل میں 150 دیہاتیوں کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔ ان افراد کوصدام حسین پر قاتلانہ حملے کے جرم میں قتل کیا گیا۔

دو ہفتے قبل مقدمے کی سماعت کے دوران صدام حسین نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان ہلاکتوں کے لیے وہ اکیلے ہی ذمہ دار ہیں لیکن ان کا اصرار تھا کہ انہوں نےکوئی جرم نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مقتول افراد پر اس وقت کے قانون کے مطابق کارروائی کی گئی تھی۔

چیف پراسیکیوٹر جعفر موساوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے بیان کے بعد وکلائے صفائی کی طرف سے پیش کیے جانے والے گواہ عدالت میں بلائے جائیں گے۔

صدام اور ان کے ساتوں ساتھی اپنے خلاف لگائے گئےالزامات سے انکار کرتے ہیں۔

اگر صدام پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے ایک اخبار نیویارک ٹائمز میں کہا گیا ہے کہ داخلی بغاوت صدام کے لیے اولین مسئلہ رہی یہاں تک کہ دوہزار تین میں غیر ملکی افواج کے عراق پر قبضے کے بعد سے بھی یہی مسئلہ درپیش رہا۔

اخبار نے امریکی فوج جی ایک کلاسیفائیڈ رپورٹ اور دوسری دستاویزات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بغاوت پر قابو پانے کی کوشش نے ہی عراقی فوج کے لڑنے کی صلاحیت ختم کردی۔