Saturday, 11 March, 2006, 04:09 GMT 09:09 PST
امریکہ کے صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام امریکی سلامتی کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی’شدید تشویش‘ کا اظہار ایسے وقت میں کیا ہے جب سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کے سفیر ایران کی طرف سے جوہری پروگرام کو ختم نہ کرنے سے پیدا ہونی صورتحال پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا ہے ایران ایک بے اعتبار ملک ہے جو کچھ بھی کر سکتا ہے اور اس کے حکمران عوام کو جواب دہ نہیں ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات کو سفارتی سطح پر طے کیا جانا ضروری ہے لیکن اس کے ایٹمی پروگرام سے پیدا ہونے والے خطرے سے ابھی نمٹ لیا جانا چاہیے۔
یورپی یونین کے وزارت خارجہ کے انچارج جویر سولانہ نے کہا ہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی گشیدگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ سفارتی آداب کے منافی ہے۔
جویر سولانہ نے کہا سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر پابندیوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی صدر کے بیان سے صرف ایک روز پہلے اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سمیت کوئی راستہ بند نہیں کیا۔
اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے نے ایران سے جوہری توانائی کے تنازعہ کو سلامتی کونسل بھیجا ہے۔
امریکہ ایران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پر امن مقاصد کے لیے ہے۔