Friday, 10 March, 2006, 03:56 GMT 08:56 PST
عراقی صدر جلال طالبانی نے عراقی پارلیمنٹ کا اجلاس ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے معاملے پر اختلافات کو دور کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
کرد اور سنی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نامزد وزیر اعظم ابراہیم جعفری کی جگہ کسی اور کو متعین کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک قومی اتحادی حکومت کی قیادت کے لیے مناسب حد تک غیر جانبدار نہیں ہیں۔
اس سے پہلے آٹھ روز قبل نامزد وزیراعظم ابراہیم جعفری نے ملک کے سنیئر رہنماؤں کے ساتھ ہونے والا وہ اجلاس ملتوی کر دیا تھا جس کا مقصد ایک قومی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کرنا تھا بظاہر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی لیکن خیال کیا گیا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہو گی کہ سیاسیتدان انہیں ہی حکومت سے باہر کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔
ابراہیم جعفری ہی نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک قومی حکومت کی تشکیل دینے کی اپیل کی تھی۔
کرد اور سنی رہنماؤں نے اس وقت بھی ابراہیم جعفری سے ناخوشی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ کسی ایسی قومی اتحادی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے جس کے سربراہ جعفری ہوں۔
![]() | |
| صدر جلاس طالبانی |