Friday, 10 March, 2006, 04:57 GMT 09:57 PST
متعدد شقوں کے کالعدم ہونے سے صرف چندگھنٹے پہلے صدر بش نے دستخط کر کے متنازعہ پیٹریاٹ ایکٹ کی کو قانونی شکل دے دی ہے۔
امریکی کانگریس نے متنازعہ پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید کے سلسلے میں آئینی بِل کی منظوری دے چکی تھی۔
پیٹریاٹ ایکٹ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے سلسلے میں صدر بش کو وسیع اختیارات دیتا ہے۔
شہری آزادیوں کے سلسلے میں پائی جانے والی تشویس کے بعد پیٹریاٹ ایکٹ کی تجدید کئی ماہ تک التواء کا شکار رہی۔
پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت فیڈرل ایجنٹوں کو حاصل ہونے والے اختیارات پر سینیٹروں کی تشویش کے بعد وائٹ ہاؤس نے آئینی بِل کے مسودے پر نظر ثانی کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
پیٹریاٹ ایکٹ گیارہ ستمبر کے ’دہشت گرد‘ حملوں کے فوراً بعد متعارف کرایا گیا تھا۔ ایوانِ نمائندگان نے گزشتہ منگل کو پیٹریاٹ ایکٹ کی 138 کے مقابلے میں 280 ووٹوں سے منظوری دی۔
سینیٹ نے گزشتہ ہفتے ہی پیٹریاٹ ایکٹ کی منظوری دی تھی۔ اگر منگل کے روز پیٹریاٹ ایکٹ کو منظور نہ کیا جاتا تو اس کی سولہ شقیں جمعہ کے روز کالعدم ہو جاتیں۔
گانگریس سے منظوری کے بعد ان سولہ میں سے چودہ شقیں ہمشیہ کے لیے امریکی آئین کا حصہ بن جائیں گی جبکہ دو میں چار ماہ کی توسیع ہو گی۔