Thursday, 09 March, 2006, 04:14 GMT 09:14 PST
عراق میں ایک نجی سکیورٹی ادارے کے سربراہ سمیت 50 افراد کے اغواء کا معاملہ ایک معمہ بن گیا ہے۔
عرقی وزارتِ داخلہ کے اہلکار ان لوگوں کو لے جانے والوں کے بارے میں متضاد بیانات دے رہے ہیں۔
بغض ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی سکیورٹی ادارے کے لوگوں کو لے جانے والے لوگوں کا تعلق پولیس کمانڈوز سے ہے۔
سکیورٹی کمپنی کے ملازمین کے اغواء کا یہ واقعہ بغداد کے زیونا علاقے میں ہوا۔
اس کے علاوہ ایک اور واقعہ میں مغربی بغداد میں ایک منی بس سے اٹھارہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں یا تو گولی مار کر یا پھر گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق گشت پر موجود ایک سکیورٹی پٹرول کو یہ بس عامریہ اور خادرہ علاقوں کی درمیانی سڑک پر کھڑی ملی۔
لاشوں کو رسیوں سے جکڑا ہوا تھا جبکہ ان کی آنکھوں پر بھی پٹی بندھی تھی۔ بس پر کوئی زندہ شخص موجود نہ تھا۔
سمارا میں 22 فروری کو ایک شیعہ مسجد پر حملے کے بعد سے عراق میں فرقہ وارانہ فسادات میں کافی تیزی آگئی ہے تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان حالیہ ہلاکتوں کا تعلق بھی فرقہ وارانہ کشیدگی سے ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تشدد کرکے ہلاکتیں کرنے کا انداز شیعہ سنی مسلح گروپوں کی کارروائیوں سے مشابہ ہے۔ عامریہ میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان لاشوں کے پاس سے کوئی شناختی دستاویزات برآمد نہیں ہوئی ہیں۔