Wednesday, 08 March, 2006, 05:16 GMT 10:16 PST
عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زادہ نے کہا ہے کہ امریکی حملے سے عراق میں مسائل کی بھڑوں کا چھتہ چھڑ گیا ہے۔
خلیل زاد کا کہنا ہے کہ فرقہ ورانہ تشدد خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اب امریکہ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ عراق میں اپنی موجودگی کو مضبوط فوجی موجودگی میں تبدیل کر دے یا وسیع تر علاقائی محاذ آرائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔
دریں اثنا امریکی وزیرِدفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے اخبارات کے نامہ نگاروں پر الزام لگایا ہے کہ کہ وہ عراق میں جاری تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر عراقیوں میں ایک وسیع تر حکومت کی تشکیل پر مفاہمت ہو گیی تو خانہ جنگی کا خطرہ اتنا نہیں ہے جتنا کہ اخبارات بیان کر رہے ہیں۔
رمسفیلڈ کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کا خطرہ عراق میں ہمیشہ سے ہی تھا۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ مراوں اور مساجد پر حالیہ حملوں اور ان حملوں میں اموات کی تعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔