Monday, 06 March, 2006, 16:05 GMT 21:05 PST
جان سمپسن
بی بی سی ورلڈ افیئرز ایڈیٹر
گزشتہ جمعہ میں نے اپنےایک ساتھی کے ساتھ بغداد کے مردہ خانے کی وڈیو بنائی۔ اس وقت ملک میں سکیورٹی کی صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ ہمیں اپنے دورے کے لیئے کافی احتیاط سے کام لینا پڑا۔
آج کل یہ مردہ خانہ کافی متنازعہ ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 22 فروری کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے اب تک یہاں 1300 لاشیں لائی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک سابق اہلکار کا کہنا ہے کہ ان لاشوں میں سے کئی پر تشدد کے نشانات ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ کئی کو نہایت بیہمانہ طریقے سے ہلاک کیا گیا ہے۔
اس کے برعکس عراق میں امریکی کمانڈر جنرل جارج ڈبلیو کیسی کا اصرار ہے کہ ان ہنگاموں میں صرف 350 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور تشدد آمیز کارروائیوں میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔
صدام کی معزولی کے بعد عراق کا یہ بدترین وقت ہے۔
ہم نے وہاں محض 20 منٹ کی وڈیو بنائی اور اس دوران بھی وہاں مسلسل لاشیں لائی جارہی تھیں۔
صحافت ایک آرٹ ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بعض اوقات حقائق کو کتنا توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے تاہم صحافی ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنی آنکھوں سے اصل صورتحال دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اب بغداد میں یہ اتنا آسان نہیں رہا ہے۔ مجھے تجربے نے سکھا دیا ہے کہ مشکل اوقات میں سرکاری حکام پر نہیں بلکہ صرف صحافیوں پر ہی بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
آج مجھے یہ پیشین گوئی کرتے ہوئے کافی دکھ ہے کہ عراق کے حالات مزید تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ ایران میں انقلاب سے پہلے کے حالات کی طرح سیاستدانوں، فوجی جرنیلوں اور سفارتکاروں کے اندازے زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔
عراق میں 2003 کے قبضے کے بعد ان لوگوں کے اندازے درست ثابت ہوئے جنہوں نے پر امید ہونے کے بجائے عراق کے مستقبل کے بارے میں نا امیدی ظاہر کی۔
اتحادی فوج کے حکام نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ جنوری کے انتخابات کے بعد ہلاکتوں اور بم حملوں میں کمی آجائے گی۔ یہ تمام پیشین گوئیاں غلط ثابت ہوئیں اور آج عراق کو بدترین حالات کا سامنا ہے۔
زائد مردہ خانہ |
انتخابات سے قبل تشدد آمیز کارروائیوں میں کمی آئی تھی۔ اس وقت امریکی اور برطانوی حکام یہ سوچنے لگے تھے کہ آخر کار حملہ آوروں کو شکست ہوگئی ہے۔
لیکن ایسا نہیں تھا۔ ملک کے بدترین حالات کے دوران بھی سیاستدان اپنا لائحہ عمل بنانے میں پہلے سے بھی زیادہ وقت لے رہے ہیں۔ جبکہ اس مرتبہ تشدد کا نشانہ نہ تو امریکی و برطانوی فوجی ہیں اور نہ ہی عراقی پولیس بلکہ اس دفعہ مسجدوں میں عبادت کرنے والے عام شیعہ اور سنی افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ان حالات میں اگر کوئی کہے کہ امید کا دامن تھام کر رکھو، تو شاید میں ایسا نہ کرسکوں کیونکہ مجھے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی۔