Monday, 06 March, 2006, 08:11 GMT 13:11 PST
حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق میں موجود امریکہ کی اتحادی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہزاروں قیدی اب بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسا نظر آتا ہے کہ ابو غریب جیل کے منظر عام پر آنے والے سکینڈل سے حاصل نتائج کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور عراق میں قیدیوں پر مسلسل تشدد کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں درج اعداد و شمار سابق قیدیوں سے انٹرویو کے بعد حاصل کیے گئے ہیں۔
اس کے برعکس امریکی اور برطانوی حکام کا اصرار ہے کہ قیدیوں سے مقررہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ اگر عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد اور فرقہ واریت کو روکنے کی کوئی امید ہے تو عراق میں موجود بین الاقوامی افواج اور مقامی حکام کو چاہیے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائیں۔
ایمنٹسی انٹرنیشل کی اڑتالیس صفات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں افراد ایسے بھی ہیں کہ جو بغیر کسی جرم کے قید ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے اور دوسو سے زائد افراد دو سال سے قید ہیں اور تقریباً چار ہزار افراد کو ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے۔
برطانیہ میں ایمنسٹی انٹرنیشل کی ڈائریکٹر کیٹ ایلن کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگوں کو بنیادی سہولیات کے بغیر قید کرنا انتہائی غلط ہے اور اس کی ذمہ داری امریکی اور برطانوی فوجوں پر عائد ہوتی ہے۔
رپورٹ میں 43 سالہ کمال محمد کا کیس بیان کیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے گیارہ بچوں کے باپ کمال محمد کو بغیر کسی جرم کے دو سال سے قید میں رکھا ہوا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ کمال کے بھائی نے بتایا کہ کمال کو کھانے پینے کو ٹھیک طرح سے نہیں دیا جاتا اور دوران قید ان کا وزن بیس کلو کم ہو گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے قیدیوں کو بھی بغیر کسی معذرت، تلافی اور وضاحت کے رہا کر دیا گیا۔
![]() | |
| رپورٹ میں عراق میں موجود اتحادی افواج پر تنقید کی گئی ہے |
رپورٹ کا کہنا ہے کہ قیدیوں پر تشدد کے مختلف سکینڈل سامنے آئے ہیں جس کے بعد ان سے بہتر سلوک اور ان سکینڈلوں کی چھان بین کے وعدے تو کیے گئے ہیں مگر اس کے باوجودعراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے قیدیوں پر تشدد کے بڑے واضح ثبوت ملے ہیں۔
جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں نے ایمنسٹی انٹرنیشل کو بتایا کہ انہیں پلاسٹک کےتاروں سے مارا جاتا تھا اور الیکٹرک شاک دیئے گئے اور پانی سے بھرے ایک کمرے کے فرش پر کھڑا رکھا گیا جس میں کرنٹ موجود تھا۔
عراق میں موجود امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ہر قیدی کو اس کی قید کی وجوہات سے متعلق ایک فارم دیا جاتا ہے اور قیدیوں کے بارے میں بنائی گئی فائلوں کا 90 سے 120 دنوں کے اندر جائزہ کیا جاتا ہے۔
برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ قیدیوں سے بدسلوکی کے مبینہ الزامات کو ہمیشہ انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اس کے علاوہ بین الاقوامی مشاہدین کے بھی ان قیدخانوں کے دورے کروائے جاتے رہے ہیں۔