http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 05 March, 2006, 13:30 GMT 18:30 PST

چین کےغریب دیہاتی کی ترقی

چین کی حکومت نے کہا ہے کہ نئے امیروں اور غریبوں کے درمیان کے فرق کو کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

اس بات کاعہد چین کے سالانہ سیاسی تقریبات کے آغاز پر ہی کیا گیا۔

چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ نے بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کے تین ہزار مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے اندازہ پیش کیا کہ اس سال چین کی سالانہ شرح نمو آٹھ فی صد ہے جو اگلے چار برسوں میں اوسطا ساڑھے سات فی صد رہے گی۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ دیہی علاقوں اور کاشتکاروں کے لیے مزید رقوم فراہم کی جائیں گی تاکہ ملک میں دولت کے اضافے کے ثمرات دیہی علاقوں تک پہنچائے جائیں۔

چینی وزیر اعظم نے کانفرنس کو بتایا کہ نئے اشتراکی دیہی علاقے کا تصور ایک تاریخی ہدف ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ حکومت کا منصوبہ ہے کہ رواں سال میں تین سو چالیس ارب یوآن ( چوبیس ارب پاؤنڈ) زراعت کی ترقی کے لیے خرچ کئیے جائیں اور مزید اربوں روپے دیہی سماجی بہبود کے لیے خرچ کئیے جائیں۔‘

جب یہ کانفرنس جاری تھی ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں نے تیانانمن سکوائر کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور وہ علاقہ عوام اور مظاہرین کے لیے بندتھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت دیہی علاقوں میں پھیلنے والی بے چینی کو بڑی اہمیت دے رہی ہے کیونکہ کروڑوں دیہی غریب لوگ چین کی تیزی سے اقتصادی ترقی کرتے ہوئے شہری علاقوں کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ایک سال میں ستاسی ہزار مظاہرے یا احتجاج کے اظہار کے دیگر واقعات ہوئے۔اس دیہی بے چینی سے نمٹنا اب چین کی ترجیحات میں شامل ہےکیونکہ اس میں اضافہ خود چین کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

خود مسٹر وین کے الفاظ ہیں کہ ’کچھ ایسے دیرینہ تنازعات ہیں جو ایک لمبے عرصے سے جمع ہوچکے ہیں اور ابھی ان کا حل کرنا باقی ہے اور کچھ ایسے نئے مسائل پیدا ہورہےہیں جن سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔‘

اسی تقریب میں چین کے دفاعی بجٹ میں چودہ فی صد اضافے کا اعلان بھی کیا گیا۔