Saturday, 04 March, 2006, 12:43 GMT 17:43 PST
فلسطینی تنظیم حماس کے رہنماؤں نےتنظیم کو تنہا کرنےکی امریکی کوششوں کے باوجود ماسکو میں روسی حکام سے ہونے والے مذاکرات کوایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
فلسطینی وفد کے ایک رکن محمد نزل نے کہا کہ گزشتہ ماہ کے انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد امریکہ کی کوشش تھی کہ تنظیم کو ’سیاسی محاصرے‘ میں قید کردے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’روس کے ساتھ اچھے تعلقات ان کے لیئے خوش آئند ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دورہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے پہلے روز کی ملاقات کو مثبت قرار دیا ہے۔
اپنے دورے کے دوسرے روز حماس کے ارکان سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔
حماس کے وفد کے رہنما خالد مشعل روس کی مفتیوں کی کونسل کے سربراہ مفتی شیخ راویل سے جلد ہی ملاقات کریں گے۔
مفتی شیخ راویل کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ حماس پر زور دیں کہ وہ معاملات کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں اور مسلح تنازعہ سے اجتناب کریں۔
یہ وفد روس کے ایوان بالا کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ اور اورتھوڈوکس چرچ کے رہنما سے بھی ملے گا۔
سرگئی لاورور نے اپنی ملاقات میں حماس کے رہنماؤں کو خبردار کیا کہ وہ بہت جلد اپنے آپ کو ایک شدت پسند تنظیم سے سیاسی تنظم میں تبدیل کریں۔
حماس کی انتخابات میں کامیابی کے بعد مشرقی وسطیٰ میں مصالحت کی کوششیں کرنے والے کسی ملک کے نمائندوں سے یہ پہلی ملاقات تھی۔
حماس نے مذاکرات سے پہلے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اس پر ڈالے جانے والے دباؤ کو ہر گز قبول نہیں کرے گی۔
اقوام متحدہ اور یورپی برادری حماس سے مذاکرات کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور روس کی طرف سے حماس کو مذاکرات کے لیے دی جانے والی دعوت کی اسرائیل نے مذمت کی تھی۔