Friday, 03 March, 2006, 03:35 GMT 08:35 PST
روس نے فلسطینی تنظیم حماس کو ماسکومیں مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے حل کے لیے کام کرنے والے چار فریقوں میں سے کوئی حماس سے باضابطہ بات چیت کرے گا۔
دریں اثنا امریکہ نے کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ نے اس کی طرف سے ملنے والی زیادہ تر امداد واپس کر دی ہے اور بقایا وہ حماس کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے واپس کر دے گی۔ امریکہ حماس کو ’دہشت گرد‘ تنظیم سمجھتا ہے اور اس نے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنےوالی تنظیم حماس کے رہنماؤں کو دو روزہ مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ حماس کی طرف سے خالد مشعل اور دیگراعلیٰ رہنما وفد میں شامل ہیں جو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو سے ملے گا۔
روس کا یہ سفارتی اقدام مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے لیے کام کرنے والے دیگر مذاکرات کاروں میں متنازعہ ہے۔ ان میں روس کے علاوہ امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔
روس حماس کے رہنماؤں سے کہے گا کہ وہ تشدد ترک کر کے امن کے لیے تجویز کردہ ’نقشہ راہ‘ اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو تسلیم کر کے اپنی پالیسی میں نرمی لائیں۔
حماس کے لیے ایسا کرنا اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا جس سے وہ اب تک انکار کرتا رہا ہے۔
اسرائیل نے روس کی حماس کو دعوت پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ ایک وزیر نے اس فیصلے کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے تعبیر کیا ہے اور یورپی یونین اور امریکہ حماس کو اب بھی حماس کو دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں۔
روس کا کہنا ہے حماس کو سیاسی طور پرتنہا نہیں کرنا چاہیے اور اس کے قائدین کی طرف ہاتھ بڑھا کرایک کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
یہ ملاقات زیادہ نتیجہ خیز ہونے کا امکان نہیں لیکن حماس کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ اس سے اسے عالمی قبولیت حاصل ہوگی۔
امریکی امداد کی واپسی
مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ویلچ نے واشنگٹن میں کانگریس کو بتایا کہ پانچ کروڑ ڈالر کی کل امداد میں سے تین کروڑ واپس ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ حماس کو امداد نہیں دے چاہے وہ حکومت میں ہو یا باہر۔