Thursday, 02 March, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
عراق کے وزیراعظم ابراہیم جعفری نے ملک کے سنیئر رہنماؤں کے ساتھ ہونے والا ایک اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔
بظاہر سیاسی رہنماؤں کی انہیں حکومت سے باہر کرنے کی مہم پر احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے اس اجلاس کو ملتوی کیا ہے۔
ابراہیم جعفری نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے ایک قومی اتحادی حکومت کی تشکیل کی اپیل کی ہے۔
کرد اور سنی رہنماء ابراہیم جعفری سے ناخوش نظر آتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی ایسی قومی اتحادی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے جس کے سربراہ جعفری ہوں۔
حالیہ بحران نئی حکومت کی تشکیل کی کوشش پر ایک تازہ ضرب ہے۔
اس وقت عراق کو ملکی تاریخ کے بد ترین تشدد کے دور کا سامنا ہے اور صرف جمعرات کو ایک واقعے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تکریت کے شمالی شہر میں واقع ایک چیک پوسٹ کے قریب حملے میں عراقی سکیورٹی کونسل کے نو اراکین ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس وقت عراق کے سیاسی رہنماؤں پر نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے عالمی دنیا کا شدید دباؤ ہے جو جزوی طور پر اس حالیہ تشدد کے سلسلے کو نئی حکومت کی تشکیل میں ناکامی سے جوڑ رہے ہیں۔
ابراہیم جعفری نے ملکی سیاسی رہنماؤں کا اجلاس اس لیے طلب کیا تھا تاکہ نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں پایا جانے والا انتشار بات چیت سے دور کیا جائے اور اس کے ساتھ ملک میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا سکے۔
لیکن حکومت نے بغیر کوئی وجہ بتائے اجلاس کو ملتوی کر دیا ہے۔
کرد اتحادی جماعت کے ایک رہنما نے حکومت کے اجلاس ملتوی کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا ملتوی کیا جانا قابل افسوس ہے کیونکہ موجودہ صورت حال میں اس قسم کااجلاس ضروری ہے۔
ابراہیم جعفری کی حکومت کی نامناسب کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ سیاسی رہنماؤں کو حکومت کی ایک اہم وزارت دینے پر بھی دیگر سیاسی جماعتوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
تاہم اس کے باوجود گزشتہ ماہ یونائیٹڈ عراقی الائنس نے ابراہیم جعفری کووزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ اس اتحاد نے دسمبر کے پارلیمان کےانتخابات میں دو سو پچھتر میں سے ایک سو اٹھائیس نشستیں حاصل کیں تھیں۔