http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 02 March, 2006, 17:28 GMT 22:28 PST

بغداد میں بندوق کا راج

عراق میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے نمائندے جان پیس نے کہا ہے کہ بغداد کے مردہ خانے میں ہر ماہ سینکڑوں لاشیں ایسی لائی جاتی ہیں جن پر جسمانی تشدد کے نشانات پائے جاتے ہیں۔

جان پیس نے بی بی سی کو بتایا کہ پچہتر فیصد لاشوں پر تشدد کے نشانات پائے جاتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ماورائے عدالت قتل کی وارداتیں ہیں۔

انہوں نے عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کو امن و اماں قائم رکھنے والے اداروں کی نااہلی اور ناکامی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں جس کے پاس بندوق ہے اور جو ذرا سا منظم ہے وہ بغیر کسی سزا کے خوف کے کچھ بھی کر سکتا ہے۔
عراق کی صورت حال کا اندازہ مردہ خانے میں لائی جانے والی لاشوں سے لگایا جا سکتا

جان پیس نے کہا کہ مردہ خانے کہ اہلکاروں کو مسلح گروپوں کی طرف سے اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔

انہوں نے اس رائے کی بھی تردید کی کہ سمارا میں دو مقبروں پر حملے کے بعد عراق میں شیعہ اور سنیوں کے درمیان خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں تشدد کے واقعات کا اندازہ بغداد کے مردہ خانے میں لائی جانے والی لاشوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہر ماہ سات سو اسی سے ایک ہزار ایک سو دس تک لاشیں مردہ خانے میں لائی گئی ہیں۔

پیس نے بتایا کہ مردہ خانے کہ سربراہ نے بھی مار دئیے جانے کے خوف سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔