Wednesday, 01 March, 2006, 08:50 GMT 13:50 PST
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق روسی تجویز پر بات چیت کے لیے ایرانی مذاکرات کار بدھ کو روس پہنچ رہے ہیں۔
ان مذاکرات کی بنیاد روس کی وہ تجویز ہے جس کے مطابق اس نے ایران کو اپنی سر زمین پر یورینیم افزودہ کرنے کے لیے پیشکش کی ہے۔
روسی صدر ولادیمر پیوتن نے حالیہ تازہ مذاکرات کے دور کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے ایرانی موقف کو ’لچکدار‘ کہا ہے۔
ایران سے باہر یورینیم افزودہ کرنے کا مجوزہ منصوبہ بنیادی طور پر روس ہی نے پیش کیا تھا تاکہ مغربی ممالک کے ان خدشات کو دور کیا جاسکے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم ایران نے کہا ہے کہ اگر کوئی ایسا معاہدہ کیا بھی گیا تو وہ صرف محدود مدت کے لیئے ہوگا۔
ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر یورینیم افزودہ کرنے کے اپنے منصوبے کوشروع کرنے سے قبل وہ نیوکلیئر فیول پر تحقیق شروع کردے گا۔
اس سے قبل مذاکرات کا پہلا دو روزہ دور ماسکو میں 21 فروری کو ختم ہوا تھا۔ ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے بات چیت کو مثبت اور تعمیری قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔
روسی وزیر خارجہ سرگی لاورو نے بھی مذاکرات کے بارے میں نا امیدی کا اظہار نہیں کیا تھا۔
روسی تجویز کو کئی حلقے ’ایرانی سمجھوتے‘ کے لیے آخری موقع قرار دے رہے ہیں۔ ایران پہلے یہ اصرار کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پر یورینیم افژودہ کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایران نے حال ہی میں یورینیم کی افزودگی پر تحقیق بحال کردی ہے جسے ماضی میں معطل کردیا گیا تھا۔ اگرچہ ایران ابھی پوری طرح سے یورینیم افزودہ نہیں کررہا تاہم مغربی قوتیں پھر بھی تشویش کا شکار ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری تحقیق محض توانائی پیدا کرنے کے لیے ہے اور اس کا کوئی فوجی مقصد نہیں ہے۔