Tuesday, 28 February, 2006, 11:54 GMT 16:54 PST
آسٹریا میں اسیر برطانوی مورخ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہٹلر نے یورپی یہودیوں کے خاتمے کے لیے کوئی منظم پروگرام نہیں بنایا تھا۔
لیکن انہوں نے ایک بار پھر بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ایسا کوئی پروگرام موجود تھا تو پھر ’اتنے سارے بچ کیسے گئے؟‘۔
وہ تین سال کی سزا دیے جانے کے خلاف اور آسٹریائی استغاثہ ان کی سزا بڑھانے کی اپیل کرنے والا ہے۔
آسٹریا میں وکیلِ استغاثہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ ارونگ کو دی جانے والی سزا ممکنہ سزا کی روشنی میں خاصی نرم ہے۔
ڈیوڈ ارونگ نے 20 فروری کی سماعت کے دوران اعتراف جرم کی بنا پر نرمی برتے جانے کا موقف اختیار کیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’یہ درست ہے کہ انہوں نے 1989 میں اس بات کی تردید کی تھی کہ نازی جرمنی نے لاکھوں یہودیوں کو ہلاک کیا تھا۔
آسٹریا میں انہیں ایک ایسے سیل میں رکھا گیا ہے جس میں وہ ہر روز 23 گھنٹے تک تنہا رہتے ہیں۔
اس سیل سے بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ سمجھتے ہیں کہ جنگِ عظیم دوم کے دوران یہودیوں کو گیس کے ذریعے ہلاک کرنے کے اکا دکا واقعات ہوئے ہوں گے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام یہودیوں کو مار دینے کے پروگرام کو جرمن فوجیوں کی بہیمانہ کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اتنے سارے یہودی بچ کیسے گئے۔
آسٹریا ان گیارہ ملکوں میں سے ایک ہے جہاں دوسری جنگِ عظیم میں یہودیوں کے مرگِ انبوہ کی تردید خلاف قانون ہے۔