Tuesday, 28 February, 2006, 10:35 GMT 15:35 PST
عراق میں جاری تشدد کے حوالے سے امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ عراق کے شہریوں کو افراتفری اور اتحاد میں سے کسی ایک کے انتخاب کا سامناہے اور انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایک آزاد معاشرے کے خواہشمند ہیں یا پھر کسی ایسے معاشرے کے جس میں برے لوگ معصوم لوگوں کی جان لیتے ہیں۔
امریکی صدربش نے عراقی میں جاری تشدد کے حوالے سے سات عراقی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ان کے بقول تمام نے انہیں قومی اتحاد کی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔
ادھر ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے بھی عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ عراق میں فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی کے خاتمے کےلیے کردار ادا کریں۔
عراق کے دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم بتیس افراد ہلاک اور ایک سو تیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنوبی عراق میں ایک بم دھماکے میں دو برطانوی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ دھماکے سانحۂ سامرہ کے بعد بغداد شہر میں لگائے جانے والے کرفیو کے اٹھائے جانے کے چوبیس گھنٹے بعد ہی ہوئے ہیں۔
سب سے زیادہ جانی نقصان ایک پٹرول پمپ پر ہونے والے خود کش دھماکے میں ہوا جس میں بیس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ بغداد کے مرکزی کرادہ ڈسٹرکٹ میں ہونے والے دھماکے میں چار افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے۔ دیگر دو دھماکے شہر کے مشرقی حصے میں ایک بازار میں اور ایک ڈاکخانے کے باہر ہوئے جن میں چھ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوئے۔
سانحۂ سامرہ کے بعد سے عراق میں اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم ایک سو پینسٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت سنّی عرب تھے۔
ادھر جنوبی عراق کے شہر امارہ کے مضافات میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے دو برطانوی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کی ترجمان کے مطابق زخمی فوجی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔
ان دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد عراق آپریشن میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 103 ہوگئی ہے۔