Sunday, 26 February, 2006, 03:24 GMT 08:24 PST
عراق میں مختلف مکتبۂ فکر کے رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پھر سے حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے قبل مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی اور سنی علماء کی تنظیم بیت العلما المسلین (ایسوسی ایشن آف مسلم سکالرز) کے نمائندوں نے مل کر عراق میں قتل و خون روکنے کا اعلان کیا تھا۔
میٹنگ کے بعد مقتدیٰ الصدر کے نمائندے صلاح العبیدی نے کہا کہ ’میٹنگ میں تمام فریقوں نے ایک سوال پر مکمل اتفاق کیا اور وہ یہ ہے کہ امام حسن الہادی اور امام حسن ال عسکری کے روضہ کو بم سے اڑانے میں جس نے بھی حصہ لیا اور جو بھی بے گناہ لوگوں اور مسلمانوں کو ہلاک کرنے میں ملوث تھے ان کی مذمت کی جاتی ہے خواہ وہ تکفیر والے ہوں یا قابض عناصر یا کوئی اور جو ایسے منصوبے رکھتے ہوں‘۔
دریں اثناء امریکی صدر بش نے عراقی دھڑوں کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے ایک یک جہتی کی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے اور ان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کو کم کرانے کے لیے مل کر کام کریں۔
اس سے پہلے امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عراق کی فوج میں ایک بھی بٹالین ایسی نہیں جو مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی حمایت کے بغیر کام کر سکے۔
عراق کی نیشنل سکیورٹی کے مشیر موافق الروبئی نے اس بیان سے اختلاف کیا اور کہا کہ امریکی سڑکوں پر نہیں نکلتے اور عراقی فوجیوں کی کارکردگی اور تیاری سے ناواقف ہیں۔
اس سے قبل عراق میں فرقہ وارانہ تشدد روکنے کے لیے کرفیو کے نفاذ کے باوجود کربلا، بعقوبہ اور بوہریز میں ہونے والے تشدد کے کئی واقعات میں چھتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ایک سو پینسٹھ افراد مارے جا چکے ہیں۔
جنوبی بغداد میں شیعہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد چودہ عراقی کمانڈوز کی لاشیں ملی ہیں۔
جنوبی شہر کربلا میں کار بم سے کیے جانے والے ایک حملے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ زخمیوں کی تعداد کم سے کم تیس بتائی گئی ہے۔
دارالحکومت بغداد میں سنیچر کو العربیہ ٹیلی ویژن کی صحافی اطوار بھجت کی نماز جنازہ پر بھی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوگئے۔