http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 26 February, 2006, 18:50 GMT 23:50 PST

عراق: مفاہمتی مذاکرات، 16ہلاک

عراق میں ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور شیعہ سنی فرقہ ورانہ مفاہمت کے لیے مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔

عراق پر خصوصی ضمیمہ

یہ مذاکرات عراق میں موجود مسلمانوں کے لیے مقدس مقامات پر حملوں اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے بعد شروع کیے گئے تھے۔

اس دوران بدھ سے شروع ہونے والی حالیہ فرقہ ورانہ کشیدگی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو پینسٹھ تک پہنچ چکی ہے۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کل آٹھ گولے داغے گئے جن کا مقصد خاص طور پر دورہ نامی مقام کے شیعہ اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مسلح اور سیاسی گروہوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ تشدد کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی اتوار کو بصرہ کے ایک مزار میں بم دھماکہ ہوا ہے تاہم کہا جاتا ہے کہ بم ایک بیت الخلاء میں لگایا گیا تھا جس کی وجہ سے نقصان کم ہوا ہے۔

دورہ کے مقام پر داغے جانے والے گولوں کا نشانہ پہلے رہائشی گلیوں کو بنایا گیا اور اس کے بعد پھلوں کی مارکیٹ کو۔

بی بی سی کے نامہ نگار جان برین کا کہنا ہے کہ مزاحمت کار اس سے پہلے بھی دورہ کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور اس ہفتے کے اوائل ہی میں کار بم کے دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل ملنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ سنیچر کو شیعہ اور سنی فرقوں کی بڑی سیاسی جماعتوں نے روضہ عسکری پر حملے اور بعد میں ہونے والے تشدد میں اضافے کی مذمت کی تھی۔اس دوران وزیرِ اعظم ابراہیم الجعفری نے کہا کہ ’ہم نے تمام مذہبی مقامات کا تحفظ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے‘۔

مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی اور سنی علماء کی تنظیم بیت العلماء المسلین (ایسوسی ایشن آف مسلم سکالرز) کے نمائندوں نے مل کر عراق میں قتل و خون روکنے کا اعلان کیا تھا۔

میٹنگ کے بعد مقتدیٰ الصدر کے نمائندے صلاح العبیدی نے کہا کہ ’میٹنگ میں تمام فریقوں نے ایک سوال پر مکمل اتفاق کیا اور وہ یہ ہے کہ امام علی نقی اور امام حسن عسکری کے مزاروں کو بم سے اڑانے میں جس نے بھی حصہ لیا اور جو بھی بے گناہ لوگوں اور مسلمانوں کو ہلاک کرنے میں ملوث تھے ان کی مذمت کی جاتی ہے خواہ وہ تکفیر والے ہوں یا قابض عناصر یا کوئی اور جو ایسے منصوبے رکھتے ہوں‘۔