Sunday, 26 February, 2006, 00:47 GMT 05:47 PST
فلسطین کے رہنما محمود عباس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر وہ حماس کو اپنے امن پسند ایجنڈے کی راہ پر گامزن نہ کر سکے تو وہ فلسطینی انتظامیہ کی صدارت سے استعفیٰ دے دیں گے۔
برطانیہ کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اسرائیل، امریکہ اور یورپ سے اپیل کی کہ حماس کو کسی ایک کونے میں دھکیلنے کی بجائے وہ اسے اپنی سوچ میں اعتدال پسندی لانے کا موقع دیں۔
بی بی سی کے عالمی امور کی نامہ نگار ایملی بکانن کے مطابق فلسطینی صدر نے اپنا سیاسی مستقبل اگلے کچھ ماہ کے لیے داؤ پر لگا دیا ہے۔
ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حماس انتظامی طور پر ناکام رہے تاکہ قبل از وقت انتخابات ہوں اور ان کی جماعت فتح واپس اقتدار میں آ جائے۔ تاہم انہوں نے انٹرویو میں اس کی سختی سے تردید کی ہے اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو دانشمند اور عقلیت پسند کہا ہے۔
انہوں نے یہ بات واضح کی کہ حماس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد کے راستہ کو ترک کرنے کی طرف قدم بڑھائے۔ مگر انہوں نے کہا کہ اس میں ابھی وقت لگے گا اور عالمی برادری کو چاہیئے کہ انہیں بالکل الگ تھلگ نہ کر دے۔
گزشتہ ماہ کے انتخابات کے بعد حماس اور مغربی رہنما دونوں ہی محمود عباس سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنا عہدہ نہ چھوڑیں، اور ان کی استعفیٰ کی دھمکی سے ہو سکتا ہے کہ کوئی سمجھوتا ہو جائے۔
سنیچر کو ہی فلسطینی صدر کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد ایک سینیئر امریکی اہلکار نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ فلسطین کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے دی جانے والی امداد جاری رکھے گا۔