Monday, 20 February, 2006, 07:49 GMT 12:49 PST
امریکی فوج نے ایک ایسا کمپیوٹر گیم بنانے کے لیے رقم فراہم کی ہے جس کی مدد سے امریکی فوجیوں کو عراقی عوام کے اشاروں اور حرکات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
اس گیم کو کھیلنے والا فوجی زبانی گفتگو اور جسمانی اشاروں کی مدد سے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔ اس گیم کے ذریعے امریکی فوجیوں کو عربی زبان بھی سکھائی جاتی ہے۔ گیم بنانے والی ٹیم کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ’ ٹیکٹیکل عراقی‘ نامی یہ تربیتی کپمیوٹرگیم نہایت کامیاب رہا ہے۔
یہ گیم بنانے کا مقصد امریکی فوجیوں کو سمجھانا ہے کہ غلط اشاروں کے استعمال سے نہ صرف وہ عوام کو مشتعل کر سکتے ہیں بلکہ علاقے میں موجود تناؤ میں اضافے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
اس گیم میں فوجیوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ کسی مقامی شخص کو روکنے کے لیے کس طرح دائیں ہاتھ سے اشارہ کریں اور مقامی افراد کے قریب پہنچنے پر دھوپ کی عینک اتار دیں۔ فوجیوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ عرب معاشرے میں لوگ مغربی معاشرے کی نسبت ایک دوسرے سے زیادہ گھلتے ملتے ہیں اور یہ کہ عرب دنیا میں کسی کی جانب انگلی اٹھانا توہین آمیز سمجھا جاتا ہے۔
گیم کے خالق ڈاکٹر ہینش ولیسالمسن کا کہنا ہے کہ’ عراق میں مقامی لوگوں کو اپنی دیانتداری کا یقین دلانے کے لیے جسمانی حرکات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مغربی معاشرے میں ہم اپنی جسمانی حرکات پر قابو رکھتے ہیں جبکہ عرب معاشرے میں ان کا اظہار زیادہ ضروری ہے‘۔
اطلاعات کے مطابق اس گیم کی کامیابی کے بعد اب’ٹیکٹیکل پشتو‘ نامی گیم پر کام ہو رہا ہے اور اس گیم کی مدد سے افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کو تربیت دی جائے گی۔