Monday, 20 February, 2006, 23:04 GMT 04:04 PST
حماس کے منتخب اراکین نے غزہ میں فلسطینی رہنما محمود عباس سے اپنی ملاقات میں باضاط طور پر اسماعیل ہنیہ کو وزیر اعظم کے لیے اپنے امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔
حماس دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں اس کے رہنما محمود الزہار دوسرے دھڑوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
محمود عباس کی فتح پارٹی اور شدت پسند اسلامی جہاد نے پہلے ہی حماس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
اسرائیل نے حماس کی انتخابات میں کامیابی کے بعد فلسطین پر متعدد پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے اسرائیل کی طرف سے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں وصول کی جانے والی رقوم فلسطینی اتھارٹی کو دینے سے انکار کرنے پر اعتراض کیا تھا۔
اسرائیل امریکہ اور یورپی یونین کی طرح حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم کہتا ہے۔ جبکہ حماس اسرائیل پر حملوں کو جائز قرار دیتی ہے۔
مصر کی اخوان المسلمین تنظیم نے بین الاقوامی سطح پر فلسطین کے لیے امداد حاصل کرنے کی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے اور ایران نے بھی مسلم دنیا سے امداد کی اپیل کی ہے۔
حماس نےفلسطینی مجلس کی ایک سو بتیئس نشستوں میں سے چوہتہر پر کامیابی حاصل کی تھی اور وہ اکیلے حکومت بنا سکتی ہے۔ حماس کے نو منتخب اراکین اس وقت اسرائیل کی قید میں ہیں۔
محمودالزہار نے غزہ میں دوسرے دہڑوں سے ملاقات کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دو ہفتوں میں حکومت تشکیل دے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہم ایسی قومی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جو قومی امنگوں کی ترجمانی کرئے۔‘
لبریشن آف فلسطین کے پاپولر فرنٹ نے کہا کہ وہ اصولی طور پر حماس کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کے قائم مقام وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کہا کہ وہ کسی ایسی انتظامیہ سے تعلق نہیں رکھیں گے جس میں حماس کوئی اہم کردار ادا کرئے۔