Monday, 20 February, 2006, 13:23 GMT 18:23 PST
بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے اسلامی شدت پسند تنظیم کے چار مفرور ملزمان کو چالیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ چاروں افراد گزشتہ سال نومبر میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث تھے جن میں دو جج ہلاک ہو گئے تھے۔
اس واقعے میں جھلا کاٹھی ضلع میں ایک خودکش بم حملہ آور نےعدالت کے کمرے میں داخل ہو کر بم پھاڑ دیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سزا پانے والے افراد میں کالعدم تنظیم جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) کے سربراہ شیخ عبدالرحمن شامل ہیں جو بنگلہ بھائی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
یہ چاروں افراد اسی واقعے میں موت کی سزا کا بھی سامنا کررہے ہیں۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ جے ایم بی کے کارکنوں کو اس قسم کی سزا ملی ہو۔
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے جنوب میں واقع بریسال کی ایک خصوصی عدالت کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ رحمن اور ان کے نائب تھے۔
عدالتی حکام کا کہنا تھا کہ ان افراد کو بارود رکھنے سے متعلق ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی ہے اور ان کی سزا پر عمل در آمد ان کی گرفتاری کے فورا بعد ہی شروع ہو جائے گا۔
ان افراد کو یہ سزا بم دھماکہ کرنے کے جرم پر سنائی گئی ہے جبکہ ججوں کےقتل کے لیئے ایک علیحدہ ٹرائل میں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔
اس ماہ کے آغاز میں ایک خصوصی عدالت نے تین دوسرے شدت پسندوں کو تیس سال کی سزا سنائی تھی۔ ان افراد کا تعلق بھی اسی کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے۔ اسی ماہ جے ایم بی کے ایک اور کارکن کو عدالت نے مشکوک سرگرمیوں کی بناء پر پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
حکومت نے گزشتہ سال اگست میں ہونے والے بم دھماکوں کے لیئے جے ایم بی کو ذمہ دار ٹہرایا تھا۔ ان حملوں میں تیس افراد ہلاک ہو ئے تھے۔