http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 18 February, 2006, 11:44 GMT 16:44 PST

نئے فلسطینی پارلیمان کا آغاز

فلسطین میں گزشتہ ماہ کے انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد نئے پارلیمان کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس پارلیمان میں حماس کو اکثریت حاصل ہے۔

فلسطیمی رہنما محمود عباس نے حماس سے کہا ہے کہ وہ حکومت بنائے اور اسرائیل سے کیے جانے والے اوسلو معاہدے کی پاسداری کرے۔ انہوں نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ حملوں کی بجائے بات چیت کے ذریعے ایک آزاد ریاست حاصل کریں۔

حماس کے اعلیٰ حکام اب حکومتی عہدے سنبھالیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دن ایک ’تاریخی دن‘ ہے۔ غزہ سے تعلق رکھنے والے حماس رہنما اسمعیلٰ حانیہ کو فلسطین کا نیا وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے حماس رہنماؤں نے پارلیمان کی افتتاحی تقریب میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی کیونکہ اسرائیل نے ان رہنماؤں کو مغربی کنارے کے شہر رمّلہ جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

غزہ میں موجود حماس کے سینیئر رہنما محمود ظہار کا کہنا ہے کہ ’حماس کی فتح فلسطینی عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں فلسطینیوں کے معاملات، فلسطینی قیدیوں ، سرزمینِ فلسطین، ارضِ مقدس اور فلسطینی عوام کے لیے کام کرنا ہے‘۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے حماس سے اس وقت تک تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے جب تک حماس ہتھیار پھینکنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کرتی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فلسطینی اسمبلی کے نامزد شدہ سپیکر اور حماس کے سینیئر رہنما عزیز دویک کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ایک دوطرفہ معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تسلیم کرنے کا معاملہ دو مملکتوں کے درمیان ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ آپ کس طرح ایک ایسے ملک کو تسلیم کر سکتے ہیں جو آپ کو حتٰی کہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم نہیں کرتا‘۔

غزہ میں بی بی سی کے نمائندے ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ حماس کے رہنما سالوں تک اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنتے اور اس کے فوجیوں سے چھپتے رہے ہیں لیکن اب بچ جانے والے رہنما خود اقتدار میں آ رہے ہیں۔

نئی فلسطینی پارلیمان میں حماس کے 74 اراکین ہیں جبکہ محمود عباس کی الفتح پارٹی کو 45 نشستیں ملی ہیں۔