Friday, 17 February, 2006, 07:44 GMT 12:44 PST
اسرائیلی کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ اتوار تک مؤخر کردیا ہے کہ فلسطینی انتخابات میں برسراقتدار آنے والی شدت پسند تنظیم حماس کے ساتھ اسرائیل کی پالیسی کیا ہونی چاہیے۔
جمعہ کے روز اسرائیلی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس ہوا لیکن اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ اس بارے میں تجاویز پر کابینہ کے ارکان اتوار کے روز ووٹ دیں گے۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ غربِ اردن کے کراسنگ پوآئنٹس پر حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے جائیں۔
جنوری میں ہونے والے انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد اسرائیل یہ کہتا رہا ہے کہ وہ فلسطینی انتظامیہ کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جمع کی جانے والی رقم کی ترسیل روک سکتا ہے۔
واضع رہے کہ کئی مقامات پر فلسطینی انتظامیہ کے لیے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرنے کی ذمہ داری اسرائیل نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔
حماس نے ابھی تک ایسے تمام مطالبے مسترد کر دیئے ہیں جن میں اس سے کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد کا راستہ چھوڑنے کا اعلان کرے۔ واضح رہے کہ اسرائیل حماس کو ایک دہشگرد تنظیم کہتا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔